ریان گِرم اور مرتضیٰ حسین۔ پھر وہی ریان گِرم اور مرتضیٰ حسین۔ ایک بار پھر، صرف ریان گِرم اور مرتضیٰ حسین۔ واقعی یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ ڈراپ سائٹ نیوز پاکستان سے متعلق کسی اور لکھاری کو کیوں جگہ نہیں دیتی؟
یہ بات قابلِ غور ہے کہ ڈراپ سائٹ نیوز پاکستان کی کوریج کے لیے محض انہی دو صحافیوں پر انحصار کیوں کر رہی ہے۔ مختلف پس منظر اور زاویۂ نظر رکھنے والے دیگر لکھاریوں کو شامل کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا یہی صحافت ہے، یا پھر یہ کسی مخصوص مفادات کے لیے لابنگ کی علامت ہے؟
ڈراپ سائٹ نیوز کی بیشتر رپورٹس کی سرخیاں کچھ یوں ہوتی ہیں:
“دستاویزات سے انکشاف…”
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن نام نہاد دستاویزات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان پر تو مینڈک بھی ہنس دیں۔ یہ طرزِ عمل نہایت بچگانہ ہے—آپ اپنی خواہشات اور خیالات کا اظہار کریں اور اسے خبر کا نام دے دیں۔ لیک شدہ دستاویزات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر یہ کبھی واضح نہیں کیا جاتا کہ وہ دستاویزات دراصل ہیں کیا۔
ڈی ایس این کی رپورٹنگ نے اس کی صحافتی دیانت داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ موجودہ دور میں، جہاں غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں، میڈیا اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متوازن اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ فراہم کریں۔ بدقسمتی سے، ڈی ایس این کا طرزِ عمل میڈیا کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور عوامی رائے میں مزید تقسیم پیدا کرتا ہے۔ یہ خطرناک رجحان نہ صرف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ جمہوری اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اگرچہ ڈی ایس این خود کو تحقیقی صحافت کا علمبردار قرار دیتا ہے، لیکن اکثر اوقات غیر مصدقہ دعوؤں اور سنسنی خیزی کا سہارا لے کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رویہ صحافتی اخلاقیات کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کہ ذمہ دار رپورٹنگ کے اصول آخر کیا ہونے چاہییں؟
جب سنسنی خیز بیانیہ حقائق پر سبقت لے جائے تو میڈیا ادارے معلومات فراہم کرنے کے بجائے سیاسی تعصب کے آلے بننے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں۔
مزید برآں، تشویشناک الزامات یہ بھی سامنے آئے ہیں کہ ڈی ایس این ممکنہ طور پر بعض سیاسی گروہوں کے لیے پروپیگنڈا مشینری کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ مسلسل پاکستان مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے یہ ادارہ میڈیا کے اس بنیادی کردار سے ہٹ جاتا ہے جس کا مقصد آگاہی، معلومات کی فراہمی اور تعمیری مکالمے کو فروغ دینا ہونا چاہیے—نہ کہ نفرت اور تقسیم کو ہوا دینا۔
بطور باشعور قارئین، عوام پر لازم ہے کہ وہ خبروں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور ہر اطلاع کو پرکھیں۔ میڈیا اداروں کو بھی اس بات پر جوابدہ ہونا چاہیے کہ ان کی رپورٹنگ سماجی سوچ اور رائے عامہ پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ درستگی، توازن اور دیانت داری کو ہر صحافتی کوشش کی بنیاد ہونا چاہیے تاکہ آزاد صحافت ایک پیچیدہ دنیا میں سچائی کا مضبوط ستون بنی رہے۔
جانبدار خبریں، جانبدار تجزیے اور ریاست مخالف بیانیہ صحافت کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں۔ صحافت کو واضح طور پر لابنگ فرم یا پروپیگنڈا مشین سے الگ پہچانا جانا چاہیے۔
