ہفتہ‬‮   30   اگست‬‮   2025
 
 

اسلام کو مسلمانوں سے بچائو

       
مناظر: 483 | 30 Aug 2025  

بر صغیر میں اسلام کے خلاف ، اسلام کے نام پر جتنے فتنے اٹھے اور اٹھ رہے ہیں ، ان کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ، مرزا مردود سے لے کر فتنہ تکفیر اورجہلا کو امام اجتہاد تسلیم کرنے تک ، ایسے ایسے فتنے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نامور افسانہ نگار سجاد حیدر یلدرم کا افسانہ یاد آجاتا ہے ، ’’مجھے میرے دوستوں سے بچائو‘‘ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’اسلام کو مسلمانوں سے بچائو ۔ صدیوں سے برصغیر کی سرزمین پر ایک ہی نعرہ گونجتا ہے کہ اسلام خطرے میں ہے ۔‘‘ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہاں اسلام کسی غیر کے سبب نہیں خود مسلمانوں کے سبب خطرے میں ہے ۔ گزشتہ دو سوسال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،جو بھی کانام، بھینگا،جاہل،مردود اٹھا، دین کے نام پر دین میں خرافات کا اضافہ کیا ، مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس کے پیچھے چل پڑ ا۔ قادیان کے دجال کی مثال سب سے نمایاں ہے کہ جسے شریف آدمی اور ذی شعورانسان ثابت کرنا ، اس کے پیروکاروں کیا گھر والوں کے لئے بھی ممکن نہیں، لوگ اسے نبی مانے پھرتے ہیں، جن میں اچھے خاصے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ جو شخص آقا محمد ﷺ کی صفت خاتم النبیین کو زبان سے ادانہیں کرسکتا ، اول کلمہ پڑھتے ہوئے ، آقا محمد ﷺ کا اسم گرامی اس کی زبان سے ادا نہیں ہوپاتا ، حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اعلانیہ توہین کا مرتکب ہے، اسلام اور مذہب اس کے لئے ایک ٹچ ہے، عوام کالانعام اس فتنہ پرور کو ریاست مدینہ کا داعی مانتےہیں اور اس کے لئے لڑنے مرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ دین کے معاملے میں پست ترین معیار کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ ایک شخص جو دیکھ کر بھی قرآن کریم کی ایک آیت تک تلاوت کرنے سے قاصر ہے ، اولیا، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کے لئے بھی جس کی زبان سے توہین کے سوا کوئی جملہ نہیں نکلتا ، اور حدتو یہ کہ اب اس کی زبان طعن دراز سے آقا محمد ﷺ کی ذات اقدس بھی محفوظ نہیں ، ہمارا میڈیا اس پلمبر کو بھی مذہبی سکالر کہتاہے ، مذہب ہی نہیں لفظ سکالر کی بھی اس سے زیادہ توہین ممکن نہیں۔
حیرت انگیز یہ ہے کہ کھانے پینے اور پہننے ، اوڑھنے تک ہر شئے ہمیں برانڈڈ چاہیے ، زندگی کا کوئی بھی کام ہو ، ہمیں اس کے لئے کوالیفائڈ بندے کی تلاش ہے ، لیکن مذہب ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس میں کوالیفائیڈ کی سننے کو ہی تیار نہیں البتہ جو بھی لنڈا،لچا مولوی کو گالی سے بات شروع کرے، محدثین اور مفسرین کو بغیر کسی دلیل اور علم کے بتا ئے اور اپنی من مرضی کی ہفوات کو اسلام کا نام دے دے ،اپنے حصے کے جہلااسے مل ہی جاتے ہیں ، سوشل میڈیا کے تام جھام نے یہ کام مزید آسان کردیا ہے ، مزے کی بات یہ کہ ایسے تمام فتنوں کی فالونگ کا تجزیہ کرلیں ، اکثریت دین دشمن، دین بیزار لبرلز اور دجال قادیان کے ماننے والوں یا متاثرین کی ہوگی ، جو جہلا کو مقبولیت کی سند عطا کرکے دین پر اعتراض کی راہ ہموار کرتے ہیں،اور نوجوان نسل کو مغرب کی مرضی کا دین دےکر صہیونی سازشوں کامہرہ بنانےکاکام کرتے ہیں ۔ معاملہ صرف سوشل میڈیائی فتنوں تک محدود نہیں ہے۔
تشویش ناک امر یہ بھی ہے کہ دین کے محکمات ، اصلاحات کو استعمال کرکے ، دین کے خلاف ملکی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کا سلسلہ گزشتہ ربع صدی سے زور پکڑ گیا ہے ۔ مثال کے طور پرجہاد اسلام کا عظیم الشان رکن ، اور شکوہ دین کا واحد راستہ ہی نہیں ، فلسطین اور کشمیر جیسے مجبور مظلوم اور مقہور مسلمانوں کی نجات کا ذریعہ بھی ہے ، لیکن مسلمانوں اور اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت ، انسانیت دشمنی ، قتل وغارت اور لوٹ مار کے لئے جہاد کی اصطلاح تواتر سے استعمال کی جا رہی ہے ، تاکہ نوجوان نسل کو اسلام اور اس کی روشن تعلیمات سے برگشتہ کیا جا سکے ۔ دہشت گردی کو جہاد کا نام دینے والوں کی پوری فہرست چھان ماریں ، کوئی بس کنڈکٹر ملے گا ، کوئی ان پڑھ لکڑ ہارا، تو کوئی نام نہاد مسلمان ، اصرار ان کا یہ ہے کہ یہ شریعت کے لئے لڑ رہے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ شریعت کے نام پر شرارت کر رہے ہیں ۔ خلافت ایک اور مقدس اصطلاح ،مسلمانوں کا سیاسی نظام ، آخری پناہ گاہ اور نشاۃ ثانیہ کے خواب کی تعبیر ، لیکن جب ترکی کا معاہدہ لوزان ختم ہونے کا وقت قریب آیا تو عراق کے ایک جاہل سی آئی اے ایجنٹ کے زریعہ خلافت کے نام پر ایک عالمی دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کردیا گیا ، جس کا کردار اس قدر مکروہ، اور متعفن ہے کہ ان لوگوں کی زبان سے خلافت کا لفظ ادا ہونا ہی اس مقدس لفط کی توہین ہے،حالانکہ جس طرح کسی جاہل تو کیا تنہا عالم کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ فتوی جہاد دے سکے ،یہ اسلامی ریاست کا حق ہے ، اسی طرح خلافت کا اعلان بھی مسلمانوں کی اجتماعیت کے سواکوئی نہیں کرسکتا ، لیکن یہاں وہ لوگ جنہیں وضو درست کرنا نہیں آتا وہ مفتی بنے پھرتے ہیں ، اور فتوے بانٹتے ہیں ، جہاد اور خلافت کے ، ایسا ہی معاملہ نہی عن المنکر کا ہے ، جو ریاست کا اختیار ہے ۔ آقا محمد ﷺ کے فرمان عالی شان سے انکار رہا ایک طرف اس پر شکوک شہبات کا اظہار بھی کفر ہے ، لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ “جو تم میں برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدلے، اگر نہ کر سکے تو زبان سے، اگر نہ کر سکے تو دل سے‘‘(صحیح مسلم 49 )
اسے ہجوم کا قانون بنانا بذات خود آپ ﷺ کے کلام مبارک کی توہین سے کم نہیں ۔ محدثین کے نزدیک آپ ﷺ نے اس حدیث مبارکہ کے ذریعہ سے ایمان کے مدارج اور ذمہ داریوں کا تعین فرمایا ہے ، ہر کس وناکس کو اختیار کا ڈنڈا نہیں تھمادیا ۔ دیکھنا ہوگا کہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کے لئے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفاء جن کی خلافت کو خود آپ ﷺ نے خلافۃ علی منہاج النبوۃ قرار دیا، ان کا طرز عمل کیا تھا ۔کیا اس دور میں عوام کو یہ حق حاصل تھا کہ جو جس شئے کو برائی سمجھے اس کے خلاف ڈنڈا لے کر کھڑا ہوجائے ؟ تمام تر ذخیرہ احادیث ، کتب سیر اور تواریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ آپ ﷺ نے یا آپ کے خلفا نے عام لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی ہو ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے عامل ( گورنر)، قاضی اور امیر مقرر کیے، جو ریاست کے نمائندہ تھے تاکہ عدل قائم ہو، کبھی ہجوم کو سزا دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ وہ سب صحابہؓ تھے۔جب بنی مکرمﷺ نے اپنے تربیت یافتہ صحابہؓ کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ جس چیزکو خلاف برائی سمجھیں ، ہاتھ سے روکنا شروع ہوجائیں ، بلکہ قضا اور امارت کا نظام قائم کرکے سب کو اس کے تابع کیا تو آج 14سوسال بعد کے کمزور ایمان کے لوگوں کو ہجومی قانون کا اختیار کیسے دیاجاسکتا ہے؟ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہجوم پرستی امربالمعروف نہیں، فساد فی الارض ہے،نے قرآن کریم نے زمین پر فساد پھیلانے والوں کو مفسدین کہا ہے،اور قرآن میں اس کے لئے بے شمار وعیدیں موجود ہیں ۔ تکفیر ایک اوراسی طرح کا فتنہ ہے ۔ حیرت انگیز طور پر یکسر جاہل مطلق دوسروں کی تکفیر کرنے اور واجب القتل مرتد قرار دینے میں منٹ نہیں لگاتے ، حالانکہ اسلام میں تکفیرنہایت سنگین معاملہ ہے ، ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف وہی مستند اور جید علما جو قرآن، سنت اور فقہ میں گہری بصیرت رکھتے ہوں، اس معاملے پر رائے دے سکتے ہیں، اور وہ بھی انتہائی احتیاط کے ساتھ۔
نبی اکرم ﷺ نے سختی سے خبردار کیا کہ بلاوجہ کسی مسلمان کو کافر کہنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ یہ الزام پلٹ کرخود الزام لگانےوالےپرعائد ہوتا ہے۔ خود پاکستان میں فتنہ قادیانیت کی تکفیر کا معاملہ اس اصول کو واضح کردیتا ہے کہ اس دور کے جید علماء نے ، جانیں قربان کیں، خون کے دریا عبور کئے لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لیا ،البتہ ریاست کو قائل کیاکہ وہ اس کی تکفیر کا اعلان کرے اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے اجتماعی طور پر علماء کی راہنمائی میں ریاستی اختیار کو استعمال کیا اور قادیانیوں کی تکفیر کی ۔ باطل قوتیں ایک جانب تکفیر سے دین متین کو عوام کی نظر میں بدنام کر رہی ہیں تو دوسری جانب قادیانیوں کی تکفیر کومشکوک بنایا جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ برصغیر فتنوں کا گھر کیوں رہا؟ اور اب پاکستان میں اسلام کے نام پر اسلام دشمن فتنے بارش کی طرح کیوں برس رہے ہیں؟ لارڈ میکالے اور دیگر اس دور کے برطانوی دانشوروں کے مقالہ جات میں کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کی دل ودماغ سے جب تک جہاد اور آقا محمد ﷺ کی ذات کو نہیں نکالاجائے گا ، یہ اپنے دین پر قائم رہیں گےاور غلبہ دین کے لئے کام کرتے رہیںگے ۔ لہذا سیالکوٹ کچہری کے ایک ہونق کلرک کو جھوٹا نبی بناکر میدان میں اتارا گیا ، اور قادیانیت کے فتنہ کی آبیاری کی گئی ۔ اب نائن الیون کے بعد صہیونیت کو عالم اسلام میں دوبارہ بیداری کی امکانات دکھائی دیئے اور گریٹر اسرائیل کے خلاف مزاحمت دکھائی دی تو اس نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ، اول توہین رسالت کی عالمی مہم شروع کی ، دوسرے خلافت ، جہاد اور اسلام کی تمام سیاسی ،اساسی اصطلاحات سے نفرت پیدا کرنے کی خاطر ان سب کو دہشت گردی سےجوڑدیااور ایسے تمام دہشت گردوں اور فتنوں کی براہ راست ا ور بلواسطہ آبیاری کی گئی تاکہ اول مسلم معاشروں کو فساد کی نذر کرکے کمزور کیا جا سکے ، دوسرا اسلام سے خود نوجوان مسلم کو متنفر کیاجاسکے ۔ سوال یہ بھی اہم ہےکہ آخر نائن الیون کے بعد ہی یہ سب فتنہ پروری کیوں سامنے آئی؟ اس کا جواب 2004 میں امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ میں موجود ہے ، جو اس کے نیشنل سکیورٹی ریسرچ ڈویژن نے تیار کی اور سول ڈیموکریٹک اسلام کےنام سےشائع ہوئی ۔ 72صفحات پر مشتمل یہ پالیسی پیپر انٹرنیٹ پر اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر آج بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی پیپر کے ابتدا ہی میں بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھا گیا کہ امریکہ اور ماڈرن انڈسٹریل ورلڈ کو ایسی اسلامی دنیا کی ضرورت ہے جو مغربی اصولوں اور رولز کے مطابق چلے جس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں موجود ایسے افراد اور طبقہ کی پشت پناہی کی جائے جو مغربی جمہوریت اور جدیدیت کو ماننے والے ہوں۔ ایسے افراد کو کیسے ڈھونڈا جائے یہ وہ سوال تھا جس پر رینڈ کارپوریشن نے مسلمانوں کو چار Categories میں تقسیم کیا۔
پہلی قسم وہ جو اسلامی قوانین اور اسلامی اقدار کے نفاذ کے خواہاں ہیں، لیکن جدید تعلیم یافتہ ہیں اور دنیاکو سمجھتے بھی ہیں یعنی وہ طبقہ کو اصل اورتحقیقی دین کا فہم رکھتا ہے، اسے بنیادپرست کا نام دیا گیا ، اور انہیں سب سے زیادہ خطرناک بھی کہا گیا، اور لکھا گیا کہ یہ لوگ دہشت گردی کے بھی قائل نہیں ۔ دوسری قسم کوقدامت پسند کا نام دے کر کہا گیا کہ ہ لوگ خطرہ نہیں ہیں ، لیکن کسی فائدہ کے بھی نہیں کہ یہ جدیدیت اور تبدیلی سے دور رہتے ہوئے ، قدیم دور میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ تیسری قسم ایسے مسلمانوں کی ہے جنہیں جدت پسند کا نام دیا گیا جو بین الاقوامی جدیدیت کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں اسلام کو بھی جدید بنانے کے لئے اصلاحات کے قائل ہیں، یعنی مرضی کا دین گھرنے کے قائل ہیں، انہیں امریکہ کے لئے انتہائی قابل قدر قرار دیا گیا۔ چوتھی قسم سیکولرمسلمانوں کی قرار دی گئی ، جسے اصل اثاثہ قرار دیا گیا اور لکھا گیا کہ یہ اسلامی دنیا سےتوقع رکھتےہیں کہ وہ بھی مغرب کی طرح دین کو ریاست سے علیحدہ کر دیں۔ پالیسی رپورٹ نے اسلامی دنیا میں مغربی جمہوریت، جدت پسندی اور ورلڈ آرڈر کے فروغ اور نفاذ کے لئے پالیسی دی گئی کہ وہ جدت پسندوں کی حمایت کریں، اس طبقہ کے کام کی اشاعت اور ڈسٹری بیوشن میں مالی مدد کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ عوام الناس اور نوجوانوں کے لئے لکھیں، ایسے جدت پسند نظریات کو اسلامی تعلیمی نصاب میں شامل کریں، جدت پسندوں کو پبلک پلیٹ فارم مہیاکریں، ان کی اسلامی معاملات پر تشریحات، رائے اور فیصلوں کو میڈیا، انٹرنیٹ، اسکولوں کالجوں اور دوسرے ذرائع سے عام کریں، سیکولرازم اور جدت پسندی کو مسلمان نوجوانوں کے سامنے متبادل کلچر کے طور پر پیش کریں، مسلمان نوجوانوں کو اسلام کے علاوہ دوسرے کلچرز کی تاریخ پڑھائیں، سول سوسائٹی کو مضبوط کریں۔
سب سے خطرناک چال یہ کہ مسلمان طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دیں، پوری کوشش کی جائے کہ بنیاد پرست مسلمان اور قدامت پرست آپس میں اتحاد نہ قائم کر سکیں۔یہ بھی تجویز دی گئی کہ چونکہ بنیاد پرست اصل دین پر قائم رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ، لہذایہ مغربی تسلط کے لئے بڑا خطرہ ہیں ،انہیں تنہا کرنے کے لئےحالات پیداکئے جائیں۔ قدامت پسندوں کی تربیت کریں تاکہ وہ بنیاد پرستوں کا مقابلہ کرسکیں ۔ بنیاد پرست طبقے کو غیرقانونی گروہوں اور واقعات سے منسلک کرکے پروپیگنڈہ کیا جائے اور عوام کو ان سے گمراہ کیاجائے۔ ایک اور صہیونی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں 2006 میں تجویز کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی اصلاحات،جہاد،خلافت اور نہی عن المنکر کو جرائم سے منسلک کرکے دکھایاجائے تاکہ قبول اسلام کی شرح کو کنٹرول کیاجاسکے اور مسلمانوں کی نوجوان اکثریت کواسلام کے خلاف کھڑا کیا جاسکے ۔ ان دونوں رپورٹس کی روشنی میں یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتاکہ داعش ، ٹی ٹی پی سے لے کر ریاست مدینہ کے مقدس نام کے پیچھے فتنہ پرور اور پلمبری گروپ کے مقاصد کیا ہیں اورانہیں کون کس مقصد کے لئے نہ صرف پال رہا ہے ، بلکہ استعمال کر رہا ہے ۔ حالات کا تقاضہ ہے ، بلکہ بقا کا واحد راستہ کہ ہر قسم کے عطائیوں ، پلمبروں ، فتنہ پروروں پر چار حرف بھیجتے ہوئے ، صرف خالص دین کی پیروی کی جائے ، ترویج کی جائے ، جو خالصتا قرآن وسنت سے استدلال کرتا ہو ، اور دین کی تعلیم وتشریح کے لئے بھی صرف مستند علماومفتیان پر اعتبار کیاجائے ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے کیوں نہ ہو ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 29 Feb 2024
Total Killings 96,290
Custodial killings 7,327
Civilian arrested 169,429
Structures Arsoned/Destroyed 110,510
Women Widowed 22,973
Children Orphaned 1,07,955
Women gang-raped / Molested 11,263

Feb 2024
Total Killings 0
Custodial killings 0
Civilian arrested 317
Structures Arsoned/Destroyed 0
Women Widowed 0
Children Orphaned 0
Women gang-raped / Molested 0