تحریر: ثنا تسور
چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے 2024 کے بھارتی عام انتخابات اختتام پذیر ہو چکے ہیں اور نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں حکومت بنانے کے لیے 272 نشستوں کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 240 نشستیں حاصل کیں، جو 2019 کے انتخابات میں حاصل کی گئی 303 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ کانگریس نے 2024 کے انتخابات میں 99 نشستیں جیتیں، جو ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ اگرچہ بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، مگر اس کی اکثریت میں واضح کمی آئی ہے۔ یہ نتیجہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے غیر متوقع اور مایوس کن سمجھا جا رہا ہے، جو اپنی پالیسیوں اور ہندو قوم پرستانہ سیاست کے باعث بھرپور اکثریت کے دعوے کر رہی تھی۔
بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو ان نتائج پر شدید دھچکا لگا۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے تمام تر حربے استعمال کرنے کے باوجود پارٹی کو کئی اہم ریاستوں میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اتر پردیش میں، جہاں بی جے پی 2019 میں 62 نشستیں جیتنے کے مقابلے میں اس بار محض 37 نشستیں حاصل کر سکی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل وزیراعظم مودی اور بی جے پی نے “اب کی بار 400 پار” کا نعرہ لگایا تھا، مگر نتائج نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔
بھارت کی آبادی میں تقریباً 55 فیصد ہندو، 27 فیصد مسلمان اور 18 فیصد عیسائی شامل ہیں۔ بی جے پی نے عیسائی ووٹ بینک حاصل کرنے کے لیے “لو جہاد” جیسے متنازع بیانیے کو استعمال کیا، جس کے تحت یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلمان مرد ہندو اور عیسائی خواتین سے شادی کر کے انہیں اسلام قبول کرواتے ہیں۔ اس نظریے کی ابتدا کیرالہ سے ہوئی اور اسے ہندوؤں اور عیسائیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ تاہم اس حکمتِ عملی کے باوجود بی جے پی کو مہاراشٹر میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا، جہاں وہ صرف نو نشستیں حاصل کر سکی۔
ان دھچکوں کے باوجود بی جے پی نے کچھ ساحلی حلقوں، جیسے منگلور، میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ معروف تجزیہ کار اپوروانند کے مطابق، “بی جے پی کی بنیاد کمزور ضرور ہوئی ہے، مگر اس کا اثر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔” اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہو پائے گی؟ جو جماعت کبھی بھارت کی سب سے طاقتور سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی، اب اقتدار کے لیے اپنے اتحادیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ اگر کوئی بڑا اتحادی ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو سیاسی منظرنامہ یکسر بدل سکتا ہے۔
نتیش کمار کی جماعت 15 نشستوں پر سبقت رکھتی ہے، این ڈی اے 13 اور انڈیا اتحاد 9 نشستوں پر موجود ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ نتیش کمار “کنگ میکر” کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور حکومت سازی میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انڈیا اتحاد نے انہیں نائب وزیراعظم کے عہدے کی پیشکش بھی کی ہے۔ یوں بھارتی سیاست میں نتیش کمار کا کردار اب اس جملے سے مشابہ ہو گیا ہے: “مجھے ایسی پیشکش دو جسے میں ٹھکرا نہ سکوں۔” بی جے پی اور کانگریس، دونوں ہی نتیش کمار سے رابطے میں ہیں تاکہ حکومت تشکیل دی جا سکے۔
2024 کے انتخابات نے جہاں بی جے پی کو ایک واضح سیاسی جھٹکا دیا ہے، وہیں بھارتی سیاست کے لیے ارتقا، مطابقت اور شمولیت کا ایک موقع بھی فراہم کیا ہے۔ بی جے پی کی گھٹتی ہوئی اکثریت بھارتی سیاست کے لیے ایک ویک اپ کال ہے—ایک یاد دہانی کہ کوئی بھی جماعت اپنی بالادستی کو یقینی نہیں سمجھ سکتی اور یہ کہ جمہوریت میں ہر شہری کی آواز کو سنا جانا ناگزیر ہے۔