\
اتوار‬‮   11   جنوری‬‮   2026
 
 

وفاق سے کم فنڈز کے باعث آئی ایم ایف کیش سرپلس کا ہدف پورا نہ ہونے کا خطرہ

       
مناظر: 454 | 11 Jan 2026  

اسلام آباد:خیبر پختونخوا حکومت نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اور دیگر وعدوں کے تحت وفاق کی جانب سے فنڈز کے اجرا میں مسلسل کمی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 157 ارب روپے کے کیش سرپلس کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ایف بی آر کی جانب سے سال کے پہلے چھ ماہ کا ہدف پورا کرنے میں ناکامی کے باعث صوبے کو این ایف سی کے تحت تخمینہ شدہ حصے سے 76 ارب روپے کم ملنے پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو متنبہ کیا ہے۔

اربوں روپے کے ناجائز انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ایڈوانس لینے اور ریفنڈز کی ادائیگیوں کو سست کرنے کے باوجود ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف سے 545 ارب روپے اور نظرثانی شدہ ہدف سے 330 ارب روپے پیچھے رہا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کا یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب ایف بی آر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے باوجود ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے۔

مشیر خزانہ نے اس ہفتے لکھا کہ یہ واضح ہے کہ وفاقی فنڈز کی منتقلی میں مسلسل کمی 157 ارب روپے کے بجٹ سرپلس کے حصول کے لیے ایک سنگین اور فوری خطرہ ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے پوچھے جانے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

یہ پیش رفت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے 4.5 ٹریلین روپے کے بقایاجات روکنے کے دعوؤں اور پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف 8 فروری کو ہڑتال کرنے کے فیصلے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

موجودہ مالی سال کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں نے 1.46 ٹریلین روپے کا کیش سرپلس فراہم کرنے کا عہد کیا ہے جو قومی معیشت کے حجم کے 1.1 فیصد کے برابر ہے۔

کیش سرپلس کے ہدف کو پورا کرنا آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط ہے ۔ اس کا مطلب 2.1 ٹریلین روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس ہدف کو ظاہر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن صوبوں کا کہنا ہے کہ وہ رقم صرف تب ہی فراہم کر سکتے ہیں جب ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کر لے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹیکسوں میں 20 فیصد نمو حاصل کرے گی لیکن اب تک ایف بی آر بمشکل 10 فیصد نمو حاصل کر سکا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے نئے ایوارڈ پر غور کے لیے گیارہواں این ایف سی تشکیل دیا ہے۔ پہلا اجلاس گزشتہ ماہ ہوا تھا اور تمام شراکت داروں نے دوسرا اجلاس جنوری کے دوسرے ہفتے تک منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صوبائی مشیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی، سٹریٹ ٹرانسفرز اور ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص فنڈز کے حوالے سے ریونیو کی رکاوٹیں ناگزیر اخراجات، بشمول سیلاب کے ردعمل اور بحالی پر خرچ ہونے والے 28 ارب روپے کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہیں۔

صوبائی مشیر خزانہ نے مزید لکھا کہ صوبائی حکومت نے داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) پر بھی 7 ارب روپے خرچ کیے ہیں جس سے بجٹ پر مزید دباؤ پڑا ہے۔ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر خزانہ پر زور دیا کہ وہ فوری اصلاحی اقدامات کریں۔

بجٹ کے مفروضوں کے مطابق وفاقی منتقلیوں کی بروقت اور یقینی وصولی کے اقدامات کیے جائیں۔ مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ پہلے چھ ماہ کے وفاقی ٹیکس واجبات میں خیبر پختونخوا کا حصہ 643 ارب روپے تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک فیصد حصہ بھی شامل ہے لیکن اصل وصولی 567 ارب روپے رہی۔

وفاقی حکومت کے ساتھ خط و کتابت کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے لیے کل 292 ارب روپے مختص کیے تھے۔ اس میں جاری اخراجات کے لیے 143 ارب روپے، سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت 40 ارب روپے، ایکسلریٹر امپلی منٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت 50 ارب روپے، ٹی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے اور 3 فیصد این ایف سی شیئر کی نمائندگی کرنے والے 43 ارب روپے شامل ہیں۔

مشیر خزانہ کے مطابق 292 ارب روپے کے مختص فنڈز کے مقابلے میں اب تک اصل اجرا صرف 56 ارب روپے ہوا ہے جو سالانہ فراہمی کا صرف پانچواں حصہ ہے اور اس نے ان تاریخی طور پر پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کو شدید محدود کر دیا ہے۔

مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسلریٹڈ امپلی منٹیشن پروگرام کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے صفر فنڈ جاری ہونے کے باوجود صوبے نے 26.4 ارب روپے جاری کیے ہیں۔

اسی طرح ضم شدہ اضلاع کے جاری اخراجات کے لیے اب تک 63 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے صرف 46 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کہا کہ سٹریٹ ٹرانسفرز کے تحت فنڈز کا اجرا بھی اتنا ہی سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 115 ارب روپے کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں اب تک اصل اجرا صرف 19 ارب روپے رہا ہے۔ اسی طرح نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کا بجٹ 106 ارب روپے ہے اور پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 18 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔