\
منگل‬‮   13   جنوری‬‮   2026
 
 

دماغ میں اعصابی فضلے کی نکاسی کے راستے میں رکاوٹ الزائمر کی وارننگ ہوسکتی ہے، ماہرین

       
مناظر: 649 | 13 Jan 2026  

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دماغ میں نکاسی کے راستوں (ڈرینیج پاتھ ویز) میں رکاوٹ الزائمر کی بیماری کی ایک وارننگ ہو سکتی ہے۔

سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی(این ٹی یو) کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ خون کی نالیوں کے گرد موجود ’نکاسی کے راستے‘ سیریبرواسپائنل فلوئیڈ سے بھرے ہوتے ہیں جو اعصابی فضلہ خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم شریانوں کی سختی اور ہائی بلڈ پریشر اس راستے میں خلل ڈال سکتا ہے اور اس کی وجہ سے شریانوں میں فضلہ جمع ہونے لگتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ نکاسی کے راستے، (پیری واسکولر اسپیسز) پھیل جاتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ پھیلی ہوئی پیری واسکولر اسپیسز(ای پی وی ایس) ان افراد میں زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں الزائمر کی ابتدائی علامات ظاہر ہو رہی ہوں۔

این ٹی یو کے لی کونگ چیان اسکول آف میڈیسن سے وابستہ اور اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ناگےندرن کندیا کے مطابق دماغ کی یہ غیر معمولی تبدیلیاں معمول کے ایم آر آئی اسکینز میں دیکھی جا سکتی ہیں جو یادداشت اور ذہنی صلاحیت میں کمی کے جائزے کے لیے کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کی شناخت الزائمر کی جلد تشخیص میں موجودہ طریقوں کے ساتھ معاون ثابت ہو سکتی ہے جو بغیر اضافی ٹیسٹ کروانے اور ان پر اخراجات کے ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اور ایل کے سی میڈیسن کے طالب علم جسٹن اونگ کے مطابق الزائمر کی ابتدائی تشخیص انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے ڈاکٹروں کو بروقت علاج کا موقع ملتا ہے، جس سے یادداشت میں کمی، سوچنے کی رفتار میں سستی اور مزاج میں تبدیلی جیسے مسائل کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ای پی وی ایس اور الزائمر کے درمیان تعلق واضح نہیں تھا، اس لیے این ٹی یو کی ٹیم نے ای پی وی ایس کا موازنہ الزائمر کی بیماری کے دیگر تسلیم شدہ انڈیکیٹرز سے کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تحقیق ایک اہم خلا کو بھی پر کرتی ہے کیونکہ اس میں سنگاپور کے مختلف نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے، الزائمر پر کی جانے والی کئی تحقیقات مغربی آبادی پر مرکوز ہوتی ہیں، مگر ان کے نتائج ہر نسلی گروہ پر لاگو نہیں ہوتے۔

محقق پروفیسر کندیا نے بتایا کہ کاکیشین نسل کے ڈیمینشیا کے مریضوں میں ماضی کی تحقیقات کے مطابق الزائمر سے جڑے ایک بڑے رسک جین، اپولیپوپروٹین E4، کی شرح تقریباً 50 سے 60 فیصد ہے جبکہ سنگاپور کے ڈیمینشیا کے مریضوں میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔

اس تحقیق کے لیے سنگاپور کے 979 افراد کا مطالعہ کیا گیا، جس میں معمولی ذہنی کمزوری کے شکار افراد کا موازنہ ان افراد سے کیا گیا جن میں ایسی کوئی خرابی موجود نہیں تھی اور ایم آر آئی اسکینز کی بنیاد پر معلوم ہوا کہ ہلکی ذہنی کمزوری رکھنے والے افراد میں ای پی وی ایس پائے جانے کا امکان زیادہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق محققین نے الزائمر سے منسلک 7 بایومارکرز کا بھی جائزہ لیا، جن افراد میں ای پی وی ایس موجود تھے، ان میں 7 میں سے 4 بایومارکرز زیادہ پائے گئے، جن میں ایمائلائیڈ پلیکس اور ٹاؤ ٹینگلز شامل ہیں، وہ الزائمر کے زیادہ خطرے کی نشان دہی کرتے ہیں۔

ماہرین نے وائٹ میٹر کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا، جو الزائمر کا ایک عام اشارہ ہے، یہ نقصان 7 میں سے 6 بایومارکرز سے منسلک پایا گیا تاہم، معمولی ذہنی کمزوری کے شکار افراد میں الزائمر کے بایومارکرز کا تعلق وائٹ میٹر کے نقصان کے مقابلے میں ای پی وی ایس سے زیادہ مضبوط تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای پی وی ایس الزائمر کی ایک ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔

پروفیسر کندیا کے مطابق یہ نتائج طبی لحاظ سے نہایت اہم ہیں، اگرچہ وائٹ میٹر کو پہنچنے والا نقصان ڈیمینشیا کی جانچ میں زیادہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ اسے ایم آر آئی اسکینز میں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے مگر ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ پھیلی ہوئی پیری واسکولر اسپیسز الزائمر کی ابتدائی علامات کی نشان دہی میں منفرد اہمیت رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ای پی وی ایس اور الزائمر کے درمیان یہ تعلق اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مستقبل میں ایم آر آئی ایک قابل رسائی ذریعہ بن سکتا ہے جس کے ذریعے الزائمر کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے گی اور بیماری کے مزید بڑھنے سے پہلے اس کی رفتار کو کم کیا جا سکے گا۔

محققین نے بتایا کہ وہ ان افراد کی نگرانی کرتے رہیں جن کو اس مطالعے میں شامل کیا گیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں سے کتنے افراد آخرکار الزائمر میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مزید تصدیق کی جا سکے کہ آیا ای پی وی ایس واقعی ڈیمینشیا کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں یا نہیں۔