\
جمعہ‬‮   16   جنوری‬‮   2026
 
 

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کا سلامتی کونسل میں دو ٹوک پیغام

       
مناظر: 389 | 16 Jan 2026  

نیویارک:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ پابندیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نعروں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران کی داخلی صورتحال پر اجلاس بلانا شرمناک اور سیاسی منافقت کا عکاس ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں اور برسوں سے ایران پر عائد پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین پر داعش کے طرز پر حملے کیے گئے، جن سے نمٹنے کے لیے ایرانی سیکیورٹی گارڈز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکومت مظاہرین کو بغاوت پر اکسا رہی ہے، جو ایران کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

خطاب میں ایرانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور ایران کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نہ صرف ایران بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی نظام کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔

ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی حکومت پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، تاہم کسی بھی بیرونی جارحیت یا سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔