دنیا میں طاقت کے پرانے پیمانے بدل رہے ہیں کبھی فوجی قوت، کبھی معیشت، کبھی نظریہ۔ اب ایک اور پیمانہ سامنے آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کی سپر طاقت اور یہ اعزاز مودی کے بھارت کو ملا ہے کہ اسے’’ریپ کیپیٹل ‘‘ کے بعد اب ڈیجیٹل فراڈ ‘‘ کی عالمی راجدھانی مان لیا گیا ہے ۔ اس پر مودی کو مبارک باد اور چھتروں کے ہار پہنانا ، عین واجب ہو چکا ہے ، نودی کا بھارت آئی ٹی سپر پاور تو نہ بن سکا لیکن عالمی فاراڈیا ہونے کا اعزاز حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہا ۔ نواب مصطفٰی خان شیفتہ کے بقول
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
امریکی حکام کی تحقیقات نے حالیہ مہینوں میں اس تاثر کو مزید وزن دیا۔ ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تفتیش کے دوران سراغ بھارت تک جا پہنچا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق منظم نیٹ ورک، کال سینٹرز کی شکل میں، امریکی شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ سینکڑوں افراد متاثر ہوئے، مجموعی نقصان کروڑوں ڈالر تک پہنچا۔ طریقہ واردات سادہ مگر مؤثر تھا۔ فون کال، ای میل، یا کمپیوٹر اسکرین پر ابھرنے والا ایک جعلی پیغام۔ دوسری طرف بیٹھا شخص خود کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کا افسر ظاہر کرتا۔ آواز میں رعب، الفاظ میں دھمکی، اور سامنے خوفزدہ شہری۔ چند منٹوں میں عمر بھر کی جمع پونجی کسی انجان اکاؤنٹ میں منتقل۔یہ کوئی فلمی کہانی نہیں۔ یہ اکیسویں صدی کا نیا ڈاکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ڈاکو چہرہ نہیں دکھاتا، سرحد پار بیٹھا ہوتا ہے، اور ہتھیار کی جگہ ہیڈسیٹ اور کمپیوٹر استعمال کرتا ہے۔رپورٹس کے مطابق تین بھارتی کال سینٹرز اس مخصوص نیٹ ورک سے جڑے تھے۔ آپریٹرز کو باقاعدہ اسکرپٹ دیے جاتے۔ انہیں سکھایا جاتا کہ امریکی لہجہ کیسے اپنانا ہے، خوف کیسے پیدا کرنا ہے، اور متاثرہ شخص کو تنہائی میں کیسے لے جانا ہے تاکہ وہ کسی سے مشورہ نہ کر سکے۔ جعلی وارنٹ، فرضی کیس نمبر، اور سرکاری اداروں کے نام۔ سب کچھ ایک منظم ڈرامے کی طرح۔یہاں سوال صرف چند افراد کا نہیں۔ سوال اس ماحول کا ہے جہاں ایسے نیٹ ورک پنپتے ہیں۔ جب تک مقامی سطح پر نگرانی کمزور ہو، رجسٹریشن کا نظام ڈھیلا ہو، اور ٹیکنالوجی کی تربیت اخلاقی تربیت کے بغیر دی جائے، تب تک مہارت جرم کی خدمت میں بھی جا سکتی ہے۔
بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری طویل عرصے سے فخر کا باعث رہی ہے۔ لاکھوں نوجوان سافٹ ویئر، سپورٹ سروسز اور آؤٹ سورسنگ میں کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی ڈھانچے کے اندر غیر قانونی کال سینٹرز کا چھپ جانا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔ ایک فلیٹ، چند کمپیوٹر، انٹرنیٹ کنکشن، اور بیرون ملک نمبرز پر کال کرنے کی سہولت۔ باہر سے دیکھنے والا سمجھتا ہے یہ عام بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ ہے، اندر چل رہا ہوتا ہے بین الاقوامی فراڈ۔امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے چھاپے مارے، گرفتاریاں ہوئیں، آلات ضبط ہوئے۔ یہ مثبت قدم ہے، لیکن تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ ایسے کیس بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں۔ ہر چند ماہ بعد کسی شہر سے جعلی کال سینٹر پکڑا جاتا ہے۔ کبھی ٹیک سپورٹ کے نام پر، کبھی ٹیکس حکام کے نام پر، کبھی بینک کی سکیورٹی ٹیم کے نام پر۔یہ بھی اہم ہے کہ ان فراڈز کا نشانہ اکثر بزرگ شہری بنتے ہیں۔ وہ لوگ جو ٹیکنالوجی پر مکمل عبور نہیں رکھتے۔ ان کے لیے فون پر بولنے والی پراعتماد آواز ہی سچ بن جاتی ہے۔ یوں ڈیجیٹل جرم محض مالی مسئلہ نہیں رہتا، یہ اخلاقی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں سماجی جرائم، خصوصاً خواتین کے خلاف جرائم کی خبریں بھی عالمی میڈیا میں جگہ پاتی رہتی ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود ہے۔ مگر جب کسی معاشرے سے بار بار ایسی خبریں آئیں، تو دنیا سوال کرتی ہے۔ کیا تیز رفتار معاشی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ سماجی اقدار کی تربیت بھی ہو رہی ہے یا نہیں۔ کیا قانون کا خوف موجود ہے یا نہیں۔ کیا متاثرہ کو انصاف ملتا ہے یا نہیں۔ٹیکنالوجی بذات خود نہ اچھی ہے نہ بری۔ اصل چیز وہ ہاتھ ہیں جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہی ہاتھ تعلیم، صحت، تحقیق اور صنعت کو آگے بڑھائیں تو قوم ترقی کرتی ہے۔ اگر یہی ہاتھ فراڈ اسکرپٹ لکھیں، جعلی شناختیں بنائیں اور لوگوں کو بلیک میل کریں تو یہی مہارت عالمی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔بین الاقوامی ماہرین اس رجحان کو ریاستی نگرانی اور ضابطہ کاری کی کمزوری سے جوڑتے ہیں۔ جب آن لائن کاروبار کی رجسٹریشن، مالی لین دین کی ٹریکنگ، اور ڈیجیٹل سروسز کی نگرانی مؤثر نہ ہو تو خلا پیدا ہوتا ہے۔ یہی خلا مجرم استعمال کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سرحد پار کارروائی مشکل ہے، قانونی عمل سست ہے، اور متاثرہ اکثر دوسرے ملک میں بیٹھا ہے۔یہ مسئلہ صرف بھارت یا امریکا کا نہیں۔ یہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ مگر ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرے میں سختی کرے۔ کال سینٹر انڈسٹری کے لیے واضح قوانین، باقاعدہ آڈٹ، ملازمین کی تصدیق، اور مشکوک سرگرمیوں پر فوری کارروائی۔ اس کے ساتھ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔ شہریوں کو سکھایا جائے کہ کوئی سرکاری ادارہ فون پر جرمانہ نہیں مانگتا، کوئی بینک پاس ورڈ نہیں پوچھتا، اور خوف پیدا کرنا ہی فراڈ کی پہلی علامت ہے۔
آج کی دنیا میں ساکھ سب سے بڑی دولت ہے۔ ایک ملک اگر ٹیکنالوجی کا مرکز بننا چاہتا ہے تو اسے یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ اس کی زمین سے اٹھنے والی ڈیجیٹل سرگرمی محفوظ اور قانونی ہے۔ ورنہ آئی ٹی ہب کا خواب، اسکیم ہب کے طعنے میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، اصلاح کا ہے۔ مگر اصلاح کی پہلی شرط مسئلے کو ماننا ہے۔ جب تک یہ کہا جاتا رہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، تب تک نیٹ ورک شکل بدل کر دوبارہ سامنے آتے رہیں گے۔دنیا بدل چکی ہے۔ سرحدیں اسکرین پر ختم ہو جاتی ہیں، مگر ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ جو ملک ڈیجیٹل طاقت بننا چاہتا ہے اسے ڈیجیٹل دیانت بھی دکھانا ہو گی۔ ورنہ ترقی کی رفتار جتنی تیز ہو، سایہ بھی اتنا ہی لمبا ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی وہ سایہ اصل چہرے سے بڑا نظر آنے لگتا ہے۔امریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔رپورٹ کے مطابق تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جنہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔ ان کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے
اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جعل ساز ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے امریکی شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے رہے۔ امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے جبکہ بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان بھی ضبط کیا گیا۔ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال ریاستی نگرانی کی کمزوری اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
مناظر: 419 | 5 Feb 2026
