\
بدھ‬‮   11   فروری‬‮   2026
 
 

غزہ، امریکی تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف، 3 ہزار فلسطینیوں کا وجود ہی ختم، قطری میڈیا

       
مناظر: 236 | 11 Feb 2026  

اسرائیل کے ہولناک جنگی اقدامات میں استعمال ہونے والے امریکی سپلائی شدہ تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں نے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو ایسا نقصان پہنچایا کہ ان کے جسم کے آثار تک باقی نہیں رہے۔

الجزیرہ کی ہوش ربا تحقیقات کے مطابق 2,842 فلسطینی ایسے ہیں جو محض غائب ہو گئے، صرف خون کے دھبے یا چھوٹے ٹکڑے رہ گئے۔

10 اگست 2024 کی صبح یاسمین مہانی اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتے ہوئے المیہ کی نظارے میں پھنس گئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں مسجد میں گئی تو اپنے پیروں تلے گوشت اور خون تھا۔ سعد کا کچھ بھی نہیں ملا، نہ جسم، نہ کچھ دفنانے کے لیے۔

تحقیق کے مطابق اسرائیل نے ممنوعہ تھرمل اور تھرموبارک بم استعمال کیے، جن کے درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتے ہیں، اور یہ بم پوری عمارتوں اور انسانوں کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس ٹیموں نے ہر حملے کے بعد ہلاکتوں کی مکمل جانچ کر کے یہ خوفناک اعداد و شمار مرتب کیے۔

غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ ہم کسی ہٹ کیے گئے گھر میں جاتے ہیں، مقیم افراد کی تعداد اور ملنے والی باقیات کو موازنہ کرتے ہیں، لیکن کوئی اندازہ نہیں کہ کس کی باقیات ہیں۔

ماہرین اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ خونریز حکمت عملی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور دنیا کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔