چندی گڑھ 08اگست (نیوز ڈیسک )بھارتی ریاست ہریانہ میں موٹر سائیکلوں پرسوارایک مسلح ہندوتوا گروپ نے مسلمانوں کی دکانوں پرپرتشدد حملے کئے ہیں ۔
حملے کی سوشل میڈیا پر وائر ل ویڈیوز میں ریاست کے علاقے پانی پت میں تلواروں اور چاقوں سے لیس ہندوتوا گروپ کے ارکان کو زبردستی بازار میں داخل ہو کرتاجروں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھایا گیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوتوا کے مسلح دہشت گردوں نے مسلم دکانداروں سے لوٹ مار کی اور انکی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے کئی مسلمان دکانداروں کے پاس وہاں سے نقل مکانی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔پانی پت، ہریانہ کا ایک تاریخی اور صنعتی شہرہے جو دارلحکومت نئی دلی سے 95 کلومیٹر شمال میں ہے۔ یہ شہرٹیکسٹائل سٹی کے نام سے بھی مشہور ہے اور یہ مختلف قسم کی مینوفیکچرنگ صنعتوں کا مرکزبھی ہے۔پرتشدد واقعات ضلع میں تین مختلف مقامات کرشنا گارڈن، اوجھا گیٹ، اور انڈو فارم روڈپر پیش آئے ہیں جس سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ہندوتوا بلوائیوں کے حملے سے متاثرہ ایک گوشت کی دکان کے مالک محمد نہال نے اس خوفناک حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے تحفظ کے پیش نظر اپنا کاروبار عارضی طور پر بند کررہے ہیں۔ اس واقعے کی وجہ سے ایک امام صاحب عبدالواحد کو شدید صدمے پہنچا ہے جو حملے کے وقت ایک مسجد کے اندر بچوں سمیت پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔روزنامہ دی ہندو کے مطابق حملہ آوروں نے نہ صرف مسلمانوں کے ذریعہ معاش کو تباہ کیا بلکہ مسلمانوںکو ہندو مذہبی نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا۔ اس واقعے سے متاثرہ دکاندارشدید خوف اورصدمے سے دوچار ہیں، بہت سے لوگ مستقبل میں ہندوتوا بلوائیوں ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنے سے کترا رہے ہیں ۔