جمعہ‬‮   24   مئی‬‮   2024
 
 

کل جماعتی حریت کانفرنس کی خود فریبی پر مبنی بھارتی فوجی کمانڈر کے بیان کی مذمت

       
مناظر: 727 | 30 Nov 2022  

سرینگر(نیوز ڈیسک ) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے خودفریبی پر مبنی بھارتی فوج کے اعلی کمانڈر کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر 05اگست 2019سے فوج اور پولیس کے محاصرے میں ہے اور بھارت حق خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے تمام تر ہندوتوا ہتھکنڈوں کے ساتھ فوجی طاقت کاوحشیانہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ فسطائی مودی حکومت نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیری عوام کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ دفعہ 370اور 35-Aکا خاتمہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں اپنا فرقہ وارانہ ایجنڈا ترک کرے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے ناجائز قبضے سے آزادی کے لیے کشمیری شہدا ء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے منگل کو دعویٰ کیا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کشمیر کی سیکورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اس وقت امن اور ترقی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی فوج آزاد جموں و کشمیر پر قبضے کے لئے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی فوجی کمانڈر کا دعویٰ آزاد جموں و کشمیراورپاکستان کے بارے میں بی جے پی حکومت کے مذموم عزائم کا ایک اور ثبوت ہے۔انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کی بھی شدید مذمت کی۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی اکائی جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پولیٹیکل موومنٹ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں قتل و غارت کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پولیٹیکل موومنٹ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔
جموں و کشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین الطاف احمد بٹ نے اسلام آباد میں ایک بیان میں انسانی حقوق کے معروف کشمیری علمبردار خرم پرویز کی رہائی کا مطالبہ اٹھانے پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کی خاموش کرانے کیلئے تمام ناجائز طریقے استعمال کر رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 29 Feb 2024
Total Killings 96,290
Custodial killings 7,327
Civilian arrested 169,429
Structures Arsoned/Destroyed 110,510
Women Widowed 22,973
Children Orphaned 1,07,955
Women gang-raped / Molested 11,263

Feb 2024
Total Killings 0
Custodial killings 0
Civilian arrested 317
Structures Arsoned/Destroyed 0
Women Widowed 0
Children Orphaned 0
Women gang-raped / Molested 0