جمعرات‬‮   23   مئی‬‮   2024
 
 

مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت کوبدلنے کا منظم بھارتی منصوبہ

       
مناظر: 429 | 26 Jan 2023  

تحریر : ناصرمغل

اقوامِ متحدہ کی قراردادو ں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ناکام بنانے کے لیے بھارت ایک منظم اور وسیع تر منصوبے پر کام کررہاہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو کم کرنے کے لیے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اس حوالے سے ایک بڑا ہتھکنڈہ ہے۔ شمعون پیریز نے جو اس وقت اسرائیل کا وزیرخارجہ تھا،28مئی1993ء کو اپنے دورے کے موقع پر بھارت کو مشورہ دیاتھا کہ اسے کشمیر میں بھارت بھر سے لوگوں کو لاکر آباد کرنے سے گھبرانا یا جھجھکنا نہیں چاہیے۔ کشمیر میں صرف آبادی کے تناسب میں تبدیلی ہی بھارت کو اس پر دعویٰ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ریاست کا ایک ہندو اکثریتی قوم کے ساتھ پُرامن طریقے سے رہنا ایک احمقانہ تصور ہے اور یہ تصور ایک قابلِ نفرت شے کے سوا کچھ نہیں۔نئی دہلی نے 2019ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی آئینی دفعات ختم کرکے نہ صرف اسرائیلی تجربات پر عمل شروع کردیابلکہ اسے مزید آگے بڑھ کر ایک جامع اور منظم ڈاکٹرائن میں بھی بدل دیاہے۔کشمیر میں مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور کئی علما پر نام نہاد پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمات بناکرانہیں گرفتار کیا گیا۔ بی جے پی نے جموں و کشمیر وقف بورڈ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جس کے نتیجے میں اس خطے میں موجود بورڈ کی تمام جگہیں بشمول سری نگر کی تاریخی عید گاہ اب اسی کے کنٹرول میں ہے۔ سفارت کار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق ’مزارات کا کنٹرول حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں۔ یہ ایک جابرانہ قدم ہے جس کا مقصد ان کے سیاسی کردار اور ان کی مسلم شناخت کو ختم کرنا ہے‘۔بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے کشمیری ثقافت کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے ہیں۔گزشتہ 100 سال سے بھی زائد عرصے سے جموں و کشمیر کی سرکاری زبان اردو تھی لیکن 2020ء میں بھارت کی حکمران جماعت نے اردو کی یہ خصوصی حیثیت ختم کردی اور اردو اور انگریزی کے علاوہ ہندی، کشمیری اور ڈوگری زبان کو بھی جموں و کشمیر کی سرکاری زبان قرار دے دیا۔ اس وقت کشمری زبان کے خط کو بھی نستعلیق سے دیوناگری خط میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ وادی میں موجود کشمیری ذرائع کے مطابق غیر اعلانیہ اور غیر سرکاری طور پر ایسا کیا جاچکا ہے۔بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی کرتے ہوئے کشمیر کے مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے انتظامی اور آبادیاتی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس نے نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروائے ہیں۔اعدادوشمارکے مطابق اگست 2019ء کے بعد سے کشمیر سے باہر رہنے والے غیر کشمیریوں کو 4 لاکھ ڈومیسائل جاری کیے جاچکے ہیں۔ یہ لوگ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ختم ہونے کے بعد کشمیری ڈومیسائل کے اہل ہوئے۔ یہ اقدام اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کی پالیسی کا عکس ہے اور قابض قوتوں کا ایک حربہ ہوتا ہے۔مودی حکومت نے اپنی مرضی کی انتخابی حلقہ بندیاں بھی کیں تاکہ مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کیا جاسکے اور خطے کا سیاسی توازن ہندوؤں کے حق میں کیا جاسکے۔اس اقدام کے پیچھے کارفرما عزائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی آبادی تقریباً 70 لاکھ جبکہ جموں کی آبادی تقریباً 53 لاکھ ہے۔ یہ 11 سال پرانے اعداد و شمار ہیں اور موجودہ اعداد و شمار کا تخمینہ اس سے زیادہ کا ہی ہے۔نئی حلقہ بندیوں کا مقصد ایسے انتخابات کروانا ہے جن کے نتیجے میں مودی حکومت یہ دعوٰی کرسکے کہ اب صورتحال ’معمول‘ پر ہے اور اس سے اگست 2019ء کے اقدام کی حمایت ہو۔ تاہم اس منصوبے کو کشمیری رہنماؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان رہنماؤں میں وہ بھارت نواز سیاستدان بھی شامل تھے جو ماضی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو زرعی اورصنعتی مقاصد کے لیے زمینیں اونے پونے داموں ہتھیا رہا ہے۔2016ء کی صنعتی پالیسی کے تحت کوئی غیر ریاستی شخص مقبوضہ کشمیر میں 40سال کے لیے زمین ٹھیکے (lease) پر حاصل کرسکتا ہے۔ پھر اسے زیادہ سے زیادہ 90 سال تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ یہ کاروباری مقتدرہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوبہو نقل ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کی جائیداد پر زبردستی قبضے اور اسے غیر ریاستی شہریوں کو منتقل کرنے کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا ہے۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے دنیا بھر کے ثروت مند یہودیوں نے بھی ایساہی کیا تھا اور دھڑا دھڑ فلسطینیوں سے زمینیں خریدنا شروع کر دی تھیں۔ جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا آسان ہو گیا۔ مودی سرکار اسرائیل کے نقش قدم پر چل کرہی کام کر رہی ہے۔ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے دیگر منصوبوں پر بھی عمل درآمد جاری ہے۔ غیر کشمیری ریٹائرڈ بھارتی آرمی افسروں کے لیے کالونیوں کی تعمیر کی جارہی ہے، کشمیری ہندوؤں کے لیے بستیاں بھی بسائی جارہی ہیں۔اقوامِ متحدہ کی 30مارچ1951 میں منظورکردہ قرارداد کے مطابق کوئی دستور ساز یا قانون ساز اسمبلی قانون سازی سے ایسی تبدیلیاں نہیں کرسکتے، جو استصواب راے کے نتائج کو متاثر کرسکیں۔ لہٰذا، وہ تمام اقدامات جو بھارتی حکومت نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے اُٹھائے ہیں، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی واضح خلاف ورزی ہے۔