اتوار‬‮   19   مئی‬‮   2024
 
 

سال 2022میں دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بندش مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہوئی ، VOAکی رپورٹ 

       
مناظر: 511 | 13 Feb 2023  

لتھوینیا (نیوز ڈیسک )ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو 2022میں ایران اور روس سمیت کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ انٹرنیٹ بندشوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وائس آف امریکہ (VoA)کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ لتھوینیا میں قائم ایک ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کمپنیSurfsharkکے مطابق دنیا میں جتنی بھی ویب پابندیاں لگائی گئیں اس کا پانچواں حصہ صرف بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں لگائی گئیں۔ VPNکمپنی کی 2022میں انٹرنیٹ سنسرشپ پر عالمی رپورٹ جنوری کے وسط میں جاری کی گئی جس کے مطابق 32ممالک میں مجموعی طور پر 112بارپابندیاں لگائی گئیں اوریہ پابندیاں زیادہ تر احتجاج یا بدامنی کے وقت لگائی گئیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیرکی درجہ بندی روس کے ساتھ ہے جہاں ماسکو نے یوکرین پر اپنے حملے کے دوران سوشل میڈیا اور خبروں تک رسائی کو کم کر دیا ۔ ایران جہاں ستمبر میں شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کے دوران پابندیاں لگائی گئیںاوربھارت جہاں سرفشارک نے بدامنی کے وقت سروس پر پابندیوں کو ریکارڈ کیاہے۔ مجموعی طور پر ایشیا انٹرنیٹ پر پابندیوں میں دنیا میں سب سے آگے ہے جہاںتمام دنیا کی پابندیوں کا 47فیصدواقع ہواہے۔ سرفشارک نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 4.2ارب لوگوں کو پورے سال انٹرنیٹ سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ سرفشارک انٹرنیٹ سنسرشپ ٹریکر” نیٹ بلاکس ”اور ”ایکسیس نو” جیسے نیوز میڈیا اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کا تجزیہ کرتا ہے اور کیسزکو ریکارڈ پر لانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ سرفشارک کی ترجمان Gabriele Racaityte-Krasauskeنے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2022میں انٹرنیٹ کو کل 456گھنٹے کے لیے بند کیا گیا اورہروقت مقامی سطح پر انٹرنیٹ پر مکمل پابندی لگائی گئی۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرکو 2019کے بعد سے جب بھارتی حکام نے خطے کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا، انٹرنیٹ کو باقاعدگی سے محدود اور بلاک کرنے کا سامنا رہا ہے ۔ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال انٹرنیٹ کی معطلی کے 49احکامات جاری کیے گئے تھے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق حکام نے بتایا کہ پابندیوں کا مقصد کشمیر میں سیکورٹی سے متعلق امور اور سیاسی بدامنی کے تناظر میںغلط معلومات کے پھیلائو کو روکنا اور امن عامہ کو برقرار رکھناتھا۔ لیکن مقامی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پابندیوں کا استعمال علاقے میں تنقیدی رپورٹنگ کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔