ہفتہ‬‮   22   جون‬‮   2024
 
 

مودی حکومت نے گروپ20اجلاس سے قبل مقبوضہ کشمیر کو فوجی قلعے میں تبدیل کر دیا

       
مناظر: 280 | 20 May 2023  

سرینگر20 مئی (نیوز ڈیسک ) نریندر مودی کی زیر قیادت ہندو توا بھارتی حکومت نے پیر کو سری نگر میں شروع ہونے والے گروپ 20 اجلاس سے قبل بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر کو فوجی قلعے میں تبدیل کر دیا ہے جس سے محکوم کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
قابض بھارتی انتظامیہ نے ہزاروں بھارتی فوجیوں کو مقبوضہ علاقے بالخصوص سری نگر میں تعینات کر رکھا ہے۔ سری نگر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع کنونشن سنٹر ،جہاں 22تا 24مئی گروپ 20اجلاس ہونا ہے، کے ارد گرد بھارتی فوج، پیرا ملٹری اور پولیس دستوں کے علاوہ ایلیٹ نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) اور میرین کمانڈوز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ بھارتی فورسز اہلکار شہر سے گزرنے والی گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی مسلسل تلاشی لے رہے ہیں اورڈل جھیل اور کنونشن سینٹر کے اطراف کے علاقوں میں خصوصی مشقیں کر رہے ہیں۔بھارتی فوجیوں نے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے گھروں پر چھاپوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 2ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔

مودی حکومت کی طرف سے عالمی سطح پر متنازعہ خطے میں منعقد کیے جانے والے گروپ 20اجلاس سے مقبوضہ علاقے کے لوگ بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں شدید اذیت ، توہین و تذلیل کا شکا رہیں ۔ جبر واستبداد کی ان کارروائیوں کا واحد مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
مقبوضہ علاقے میں گروپ 20اجلاس کے غیر قانونی اقدام سے قبل حفاظتی اقدامات کے نام پر سخت پابندیوں اورمحاصرے اور تلاشی کی بلاجواز کارروائیوں نے لوگوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ پرتشدد فوجی کارروائیوں نے کشمیر کی پہلے سے سنگین صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے ۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں خواتین اور بچوں کو بھی بدترین ظلم و ستم کا سامنا ہے۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سری نگر میں اپنے انٹرویو اور بیانات میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گروپ 20 اجلاس سے بھارت کو نہتے کشمیریوں پر مظالم کی مزید شہ ملے گی جنکا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جسکا نہ صرف عالمی برادری بلکہ بھارت نے بھی ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا گروپ20 ممالک کو یاد رکھنا چاہیے کہ سری نگر میں اجلاس میں ان کی شرکت مقبوضہ علاقے میں وحشیانہ بھارتی کارروائیوں کو جواز فراہم کرے گی۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سرینگر میں گروپ20اجلاس کے بھارتی اقدام کا واحد مقصد بھارتی فوجیوں کی طر ف مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے عالمی فورم کے ارکان پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق اور اقدار کے ساتھ اپنی وابستگی کی پاسداری کرتے ہوئے سرینگر میں اجلاس کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو مظلوم کشمیریوں کو بھارتی وحشیانہ قبضے سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 29 Feb 2024
Total Killings 96,290
Custodial killings 7,327
Civilian arrested 169,429
Structures Arsoned/Destroyed 110,510
Women Widowed 22,973
Children Orphaned 1,07,955
Women gang-raped / Molested 11,263

Feb 2024
Total Killings 0
Custodial killings 0
Civilian arrested 317
Structures Arsoned/Destroyed 0
Women Widowed 0
Children Orphaned 0
Women gang-raped / Molested 0