نئی دلی (نیوز ڈیسک )بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع نوح میں جاری پرتشددجھڑپوں کی وجہ سے حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ریاستی حکومت نے متعدد اضلاع میں 5اگست تک موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔
ضلع نوح میں پیر کو ہندوتوا تنظیموں بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کے ایک جلوس کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد سے اب تک امام مسجد سمیت7 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ریاستی حکومت نے صورتحال پر قابوپانے کیلئے ضلع نوح میں مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے جبکہ نوح، فریدآباد اور پلول اضلاع کے بیشتر علاقوں اور گروگرام ضلع کے سوہنا، پٹودی اور مانیسر سب ڈویژنوں کے علاقائی دائرہ اختیار میں موبائل انٹرنیٹ سروسز 5اگست تک معطل کردی ئی ہیں ۔ نوح، گروگرام، فرید آباد، پلوال اور جھجر اضلاع میں دفعہ 144 مسلسل نافذ ہے۔ ہریانہ حکومت نے ضلع نوح میں جاری پر تشدد جھڑپوں کے پیش نظر حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس کی تحقیقات کے لیے ایک 3 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ریاستی وزیر داخلہ انل وج نے کہاہے کہ نوح میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ ہریانہ کے سکریٹری داخلہ کی طرف سے جمعرات کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے، ‘موبائل فون اور ایس ایم ایس پر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، فیس بک اورٹویٹر وغیرہ کے ذریعے غلط معلومات اور افواہوں کو پھیلانے سے روکنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ان پلیٹ فارمز کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے، مظاہرین کو منظم کرنے کے لیے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، جو آتشزنی یا توڑ پھوڑ اور دیگر پرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے جانی اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ریاستی حکومت نے نوح میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی 14 کمپنیوں کے علاوہ10 ڈیوٹی مجسٹریٹس اور 6 اسپیشل ڈیوٹی مجسٹریٹس کوتعینات کیا ہے جبکہ تمام تعلیمی ادارے آئندہ احکامات تک بند رہیں گے۔
ادھر ہریانہ پولیس نے اب تک نوح اور گروگرام اضلاع میں فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں 44مقدمات درج کر کے 139ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ دونوں اضلاع میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہے اور صورتحال پر قابو پانے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔