پیر‬‮   20   مئی‬‮   2024
 
 

جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی: فاروق عبداللہ

       
مناظر: 582 | 6 Dec 2022  

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک ) جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت پر زور دیاکہ وہ یہاں کے عوام کیساتھ انصاف کرے، اس قوم نے بہت سارے مصائب اور مشکلات جھیلے ہیں لیکن کبھی غلامی تسلیم نہیں کی ہے اور نہ مستقبل میں کریگی۔
ان باتوں کا اظہار انہوں نے حضرت بل میں پارٹی کے ڈیلی گیٹ سیشن2022سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ یہ ایک عوامی تحریک ہے جس کی بنیاد1931میں ظلم و ستم کیخلاف پڑی۔
یہ مظالم صرف ایک قوم کیخلاف نہیں تھے بلکہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور بودھ سب برابر مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے اور اس جماعت نے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس شخصی راج سے آزادی دلوائی۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس سے وابستہ لیڈران، عہدیداران اور کارکنان نے جموں وکشمیر میں جمہوریت کی آبیاری کیلئے بیش بہا قربانیاں پیش کیں ہی اور سخت ترین مشکلات جھیلے، مصائب برداشت کئے، جام شہادت نوش کئے اور کچھ خاندان ہی ختم ہوگئے۔
شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ 13جولائی کے دن ہمارے قومی شہیدوں کے مزار تالا چڑھاجاتا ہے اور بندشیں عائد کی جاتی ہے لیکن جموں وکشمیر کے عوام کے دلوں سے ان شہداءکے نقوش کو ہر گز بھی مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔
ہم شہدائے کشمیر کے تاقیامت مقروض رہیں گے جنہوں نے ہمیں خود اعتماد اور خدا اعتماد، وقار اور عزت سے رہنے کی راہ دکھائی۔
دفعہ370اور 35اے کی بحالی کی جنگ کو جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہم اپنے آئینی اور جمہوری حقوق حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کشمیر سے زیادہ جموں اور لداخ کے لوگ دفعہ370اور 35اے کی منسوخی کے نقصانات شدت کیساتھ محسوس کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں ہمیں آپسی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہے اور مل جھل کر اپنے حقوق کیلئے لڑنا ہوگا۔ مجھے اُمید ہے جب لداخ، جموں اور کشمیرکے لوگ اپنے حقوق کی جدوجہد میں ڈٹے رہیں تو یہاں ضروری جمہوریت اور آئین کی بہار آئے گی۔
انہوں پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ نیشنل کانفرنس کو ہر ایک امتحان اور مستقبل میں آنے والے ہر ایک انتخابات کیلئے تیار رہنا ہوگا اور ایسے تمام حربوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے اپنائے جارہے ہیں۔
اس موقع پر پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ نیشنل کانفرنس یہاں 2019سے جاری بدنظامی کو دور کرنے کیلئے کمربستہ ہے، نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد جماعت ہے جو جموں وکشمیر کے عوام کو موجودہ دلدل سے نکال سکتی ہے۔
ہماری جماعت دفعہ370اور 35اے کی بحالی کیلئے آئینی اور جمہوری طریقوں سے لڑی رہی ہے کیونکہ انہی دفعات میں جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے مفادات کا راز مضمر ہے اور سب سے بڑھ کر ان دفعات کیساتھ ہماری عزت اور وقار جڑی ہوئی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کو روکنے اور بھاجپا کو آسان راہداری فراہم کرنے کیلئے جموں وکشمیر کی پوری انتظامی کام پر لگی ہوئی ہے۔
ہمارے لیڈران اور عہدیداران کی سیکورٹی چھینی جارہی ہے اور اُن کی عوام رابطہ مہم کو محدود کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ بھاجپا اور اس کی پراکسیوں کے لیڈرن اور عہدیداران کے آگے پیچھے درجنوں سیکورٹی گاڑیوں ہوتی ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کیلئے پوری انتظامیہ کام پر لگی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے عہدیداران اور کارکنان کسی سیکورٹی کے محتاج نہیں، ہمارا خدا حافظ رہا ہے اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی رہے گا۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ بھاجپا نے نیشنل کانفرنس کوکمزور کرنے کیلئے کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی یہاں تک کہ یہاں اپنی اے، بی اور سی ٹیموں کو بھی میدان میں اُتارا، لیکن یہ جماعت ہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا یہ ڈیلی گیٹ سیشن نیشنل کانفرنس کی مضبوطی کی بخوبی عکاسی کرتا ہے، ہم نے بھاجپا اور اس کی پراسکیوں کی طرح اجتماعات کیلئے سرکاری ملازمین کو احکامات جاری نہیں کروائے ہیں اور زرکثیر خرچ نہیں کیاجبکہ جو ڈیلی گیٹ اور ورکر حضرات یہاں موجود ہیں یہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے یہاں آئے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے جانثاروں کے جذبے کو کوئی بھی طاقت یا لالچ مرغوب نہیں کرسکتی ہے۔