ہفتہ‬‮   22   جون‬‮   2024
 
 

بلوچ یکجہتی کونسل نئی مکتی باہنی

       
مناظر: 892 | 28 Dec 2023  

یہ آج کا اسلام آباد ہے ، جہاں بھارتی ایجنسی کے آلہ کار محترم اور پاکستان کی بات کرنے والے معتوب ہیں ،بلوچستان میں بھارت کے ایما پر پاکستان کے خلاف کھلی جنگ مسلط کرنے والے دہشت گردوں نے سیاسی جارحیت کے اصول کے تحت اسلام آباد پر یلغار کی،یہاں انہیں بھارت کے جدی پشتی دوستوں نے خوش آمدید کہا۔ پاکستان کے دارالحکومت میں پاکستان کا تماشہ بنادیا،پریس کلب کے ارد گرد کے درو دیوار علیحدگی اور ملک دشمنی پر مشتمل نعروں سے اٹے پڑے ہیں اور ریاست تماشہ دیکھنے پر مجبورہےکیونکہ صحافت اور عدالت ان کی پشت پر کھڑی ہے۔ اگرکوئی بلوچستان کی سرزمین پران مزدوروں ، استادوں اور بے گناہوں کے خون کا سوال کرتا ہے جو درندگی کا نشانہ بن گئے تو 1971میں بھارت سے ’’دوستی‘‘نبھاہنے کے ایوارڈ وصول کرنے والا مافیا الٹا انہیں مطعون کرتا ہے۔ عملاً ثابت کردیا گیا ہے کہ یہاں دہشت گردوں کا بیانیہ محترم ہے،مگر دہشت گردوں اور ان کے وارثوں سے سوال کرنا جرم اور گناہ ۔ پتہ نہیں کس کا شعر ہے کہ :شیر زادوں کو شغالوں کا لقب ملنے لگا نسل بوزنوں کی ہوگئی عالی جناب المیہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت لاوارث ہے،جس طرح قائداعظمؒ کی قیادت میں ایک قوم ملک کی تلاش میں تھی،آج اسی طرح یہ ملک قوم کی تلاش میں ہے۔یہاں ملک اور ملک کے اداروں کو گالی دینا فیشن اورملک کی بات کرناملک کے دشمنوں سے سوال کرنا جرم۔ صحافت پر ہی کیا موقوف،مفاد کی سیاست نے ہر ادارے اور ہر شعبے میں پاکستانیت کا جنازہ نکال دیا گیا ۔ یہاں دہشت گردوں کے حقوق ہیں ، کوئی ان سے سوال کرے تو صحافت کے نام دشمن کی دلالی کرنے والے کتوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں ،کہا جاتا ہے دہشت گرد تو ان کے رشتے دار ہیں، سوال کرنا ہے تو ان سے کریں، یہ تو خواتین ہیں ۔ جب یہ ان دہشت گردوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہیں، وکالت کرتی ہیں ، ان کی زبان بولتی ہیں ، ماہل جیسی خودکش حملہ آوروں کو معصوم قرار دیتی ہیں،دہشت گردوں کے منصوبے کے تحت اسلام آباد میں بیٹھ کر پاکستان کی سالمیت کو متنازعہ بناتی ہیں تو یہ معصوم گھریلوخواتین نہیں رہتیں،یہ جن دہشت گردوں کی نمائندگی کرتی ہیں، ان کے کرتوتوں کا سوال ان سے کیوں نہ کیا جائے ۔حد تو یہ ہے کہ فورسز ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردوں کو گرفتار کرتی ہیں اور ایک جج اپنے چیمبر میں 3سو سے زائد دہشت گردوں کو5منٹ میں بری کرکے رہاکردیتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ تم ہوتے کون ہو؟ عوام کے قاتلوں کو رہا کرنے والے؛الٹا سوال اٹھاتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے ۔آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں فوجی جوان ، اس سے بھی زیادہ سویلین جان سے گزر گئے،لاکھوں کی تعداد میں فاٹا اور سوات کے عوام گھر سے بے گھر ہوئے تب جاکر دہشت گردی کنٹرول ہوئی لیکن سیاسی ہوس کا شکار اک ٹولہ منفی سیاسی مقاصد کی خاطر دہشت گردوں کو گلے لگانے کافیصلہ کرتا ہےاور  صدر پاکستان 100 کےقریب دہشت گردوں کو عام معافی دے کر جیلوں سے رہا کردیتاہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں ،کوئی احتساب کرنے والا نہیں۔ ان دہشت گردوں کے حقوق تھے کہ انہیں آزادی دی جائے مگر ان کے ہاتھوں مارے جانے والے ہزاروں انسانوں اور ان کے اہل خانہ کے کوئی حقوق نہیں تھے؟ان مائوں کے کوئی حقوق نہیں تھے؟جن کے جگر کے ٹکڑے اس ملک پر وارے گئے ، ان بچوں کے کوئی حقوق نہیں تھے؟ جو اس دہشت گردی کے نتیجے میں لاوارث ہوگئے، وہ بیوگان جن کی دنیا اندھیر ہوگئی ان کے کوئی حقوق نہیں تھے؟ ملک دشمن لانگ مارچ پر پانی پھینک کر انہیں قابوکیا ، امن وامان کا مسئلہ بننے سے روکا تو میڈیااور عدالت میں بھونچال آگیا،فوری رہائی،احتجاج کاحق،مرضی کی جگہ پنچانے کے حکم نامے جاری ہوگئے، لیکن بلوچستان میں فورسز کے جوانوں پر برستی گولیاں،شناختی کارڈ دیکھ کر اتاری گئی گردنیں، زندہ جلائے جانے والے وطن کے بیٹے کسی کو نظر نہیں آتے ، اس پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا ، سفاک، شرمناک رویہ تو یہ کہ بے گناہوں کے اس خون کا سوال کرنا بھی جرم ٹھہرا ۔ حذر اے چیرہ دستاں حذر۔یہی اسلام آباد تھا ، علی وزیر جیسے ملک دشمن نے ریاست کو گالی دی،امریکہ سے جی ایچ کیو پر حملے کا مطالبہ کیا، پکڑاگیا۔جج نے یہ کہتے ہوئے رہا کردیا کہ ’’ریاست کو گالی دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔‘‘کاش کوئی پوچھتا کہ آپ اس ریاست کے ملازم ہیں اس سے اوپر یا محترم تو نہیں پھر آپ کو گالی دینے سے توہین عدالت کیوں لگتی ہے ؟ 9مئی کو ملکی سلامتی کے خلاف سازش ہوئی، دفاعی تنصیبات پر حملے ہوئے، شہداء کے مقابر اور یاد گاروں تک کی بے حرمتی کی گئی۔دشمن بھارت بھی انگشت بدنداں رہ گیا کہ ’’یہ تو ہم بھی نہ کرسکتے تھے ‘‘ ، لیکن اب تک ایک بھی مجرم کے خلاف کوئی کارورائی ہوئی نہ سزا دی گئی،جن عدالتوں نے سزا دینی تھی، وہ ان کی سہولت کاری میں مصروف ہیں اور یہی عناصر آج کھلے عام بلوچستان میں خون بہانے والے دہشت گردوں سے گلے مل رہے ہیں ،سوشل میڈیا پر ان کی تان میں تان ملا کر ریاست کے خلاف ابلاغی جنگ میں معاونت کر رہے ہیں ، اس پر اصرار کہ انہیں محب وطن کہا جائے ۔ کاش کوئی ہوتا جو اس ملک کا وارث ہوتا ، کاش کوئی سیاستدان،کوئی حکمران،کوئی جج ، کوئی صحافی ، کوئی جرنیل کوئی عدالت کوئی ادارہ اس ملک کا وارث ہوتا تو دہشت گرد یوں دندناتے نہ پھرتے ، ان سے سوال کرنے اور ملک کی بات کرنے والوں کو طعنوں اور الزامات کی زد پر نہ رکھا جاتا ۔جو 1971میں مکتی باہنی کے وارث تھےملک توڑنے میں معاون بنے ، مددگاررہے،مظالم کی جھوٹی داستانیں گھڑتے رہے۔ بدلے میں دشمن سے راتب اور ایوارڈپائے، آج ان کی اولاد ، انہی کے نقش قدم پر، مودی سے مل کر اسلحہ مانگنے والوں کی ہمنوا اور ہم رکاب ہے ۔خواتین کی آڑ میں دہشت گردوں کی وکالت کرتے ،قوم کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ مظلوم خواتین ہیں ان کا دہشت گردی سے کیا تعلق؟ ایک کا باپ ٖغفارلانگو بی ایل اے کا دہشت گردتھا باہمی لڑائی میں مارا گیا،میں نہیں کہتاان کے گھر کی گواہی ہے، ماما قدیر کہتا ہے۔دوسری کا باپ آج بھی دہشت گرد اللہ نذر کے ساتھ بیٹھا ہے، جھوٹ بولتے ہیں کہ لاپتہ ہے۔ ان کا یہ جھوٹا بیانیہ اور مکرو فریب خود دہشت گرد بلوچستان لبریشن فرنٹ یعنی بی ایل ایف کے سربراہ اللہ نذر نے بے نقاب کردیا ہے۔ اپنی ٹویٹ میں کہا ’’بلوچ آزادی کی تحریک کثیر جہتی ہے جس کا سب سے اہم پہلو نفسیاتی جنگ ہے جس میں دشمن کو شکست ہوئی ہے۔میں اپنے نوجوانوں اور ابھرتی ہوئی قیادت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس نفسیاتی جنگ کے لیے تیار رہیں۔ میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس سے بھی زیادہ انقلابی طریقہ اختیار کریں۔‘‘کاش کوئی قیادت، کوئی ادارہ اس وقت جاگ رہا ہوتا ، کسی کو پاکستان کا درد ہوتا،وہ ان راتب خوروں کو کہٹرے میں لاتا اور دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی نشان عبرت بنا دیتا ۔ مگر کیا کریں؟ انہیں پاکستان نہیں صرف اقتدار چاہئے ، ملک نہیں حکومت درکار ہے ۔ اقتدار اور اختیار کی لڑائی ان سب کوریاست اور وطن سے زیادہ عزیز ہے،ورنہ کوئی تو پوچھتا،کوئی تو سوال اٹھاتا کہ جب یہ لانگ مارچ ترتیب پارہا تھا، جب یہ اسلام آباد کا رخ کر رہا تھا،جب یہ ملک دشمن ایجنڈالے کر نعرہ زن ہوئے تھے ، جن لوگوں کا کام انہیں روکنا تھا،وہ کہاں تھے ؟ بروقت اور مناسب اقدامات کیوں نہ کئے گئے ؟ جس کی غفلت یا کوتاہی سے یہ سب ہوا کیا اس سے پوچھا جائے گا ؟ کیا اس کا احتساب ہوگا؟ ہاں ملک اگر لاوارث نہ ہوتا تو اب تک یہ کارروائی شروع بھی ہو چکی ہوتی ، مگر کاش۔

 

عریضہ /سیف اللہ خالد

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 29 Feb 2024
Total Killings 96,290
Custodial killings 7,327
Civilian arrested 169,429
Structures Arsoned/Destroyed 110,510
Women Widowed 22,973
Children Orphaned 1,07,955
Women gang-raped / Molested 11,263

Feb 2024
Total Killings 0
Custodial killings 0
Civilian arrested 317
Structures Arsoned/Destroyed 0
Women Widowed 0
Children Orphaned 0
Women gang-raped / Molested 0