جمعرات‬‮   23   مئی‬‮   2024
 
 

ٹی ٹی پی ۔۔ قیادت کی منافقت اور دوغلی پالیسی

       
مناظر: 593 | 26 Apr 2024  

 عریضہ /سیف اللہ خالد

بعض لوگوں کے سیاسی مفادات اور گروہی تعصبات اور احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان گزشتہ دوسال سے ایک بار پھر دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے ۔ پس منظر میں جھانکا جائے تو عدل کا بودا نظام ، انگریز کے دور کا بوسیدہ قانون شھادت ،تعصبات ، غیر ملکی آقائوں کے مفادات ،اور سیاسی تقسیم کے اسیر بعض جج حضرات ، ملک دشمنی کو وسیلہ رزق بنانے والے لقمہ حرام کے عادی نام نہاد صحافی جو ہمیشہ پاکستان دشمن عناصر کا سہولت کار بننے کو ترجیح دیتے ہیں ،دہشت گردی کے اس پھیلائو کے سہولت کار ہیں ۔ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے یہ اتنے بڑے عفریت نہیں کہ پاکستانی فورسز ان کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں یہی دسمبر 2014 میں پشاور کے اے پی ایس سکول پر حملہ ہوا تو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں سرجوڑ کر بیٹھیں ، پوری قوم اپنی فورسز کی پشت پر کھڑی ہوئی ، حکومت نے ذمہ داری کا بھاری بوجھ اٹھایا تو چند مہنیوں کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کرکے وطن عزیز کو ان کے مکروہ وجو دسے پاک کردیا گیا ۔ 2021میں افغان طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد یہی بچے کھچے دہشت گرد طالبان کے ذریعہ سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اور معافی تلافی کی کوششوں میں تھے ، ایک مفاد پرست مافیا نے براہ راست ان دہشت گردوں سے مذاکرات کرکے ، ان کے پکڑے گئے غنڈوں کو صدارتی معافی سے کر انہیں پھر سے پاک سرزمین پر ناپاک قدم رکھنے کا نا صرف موقع دیا بلکہ ایک حکومتی مشیر کے بیان آن دی ریکارڈ ہیں ، جو ان دہشت گردوں کو معصوم ، امن پسند اور پاک باز قرار دیتا رہا ہے ۔ المیہ نہیں کہ بجائے اس کے کہ دہشت گردوں کے ان سہولت کاروں کو ان کے عہدوں اور مقام کی پرواہ کئے بغیر کٹہرے میں لایا جاتا،دار پہ کھینچا جاتا ، نشان عبرت بنایا جاتا،دہشت گردی کی معاونت پر ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات چلائے جاتے ،سزائیں دی جاتیں یہ سب مزے کر رہے ہیں ۔ جس نے ان کے لئے سرحدیں کھولیں ، جو ان سے جا کر گلے ملتا رہا ، جو احمق انہیں اپنی فورس قرار دیتا رہا ، جس صدر نے ان کے معافی نامے پر دستخط کئےسب آج اپنے گھروں میں عیاشی کر رہے ہیں اور قوم ایک بار پھر خونریزی بھگت رہی ہے ، فورسز کے جوان ایک بار پھر ان درندوں کے مقابل سینہ سپر ہیں اور جانیں قربان کر رہے ہیں ۔
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
افسوس تو یہ کہ جس نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرکے ان دہشت گردوں کا قلع قمع کیا گیا تھا ، وہ اب بھی موجو دہے ، پہلے کی طرح قابل عمل بھی ہے ، لیکن کوئی سیاسی حکومت ایک بار پھر اس پر عمل کرتے ہوئے ، دہشت گردوں کے مقابل کھڑے ہونے کو تیار ہی نہیں ۔ بلوچستان سے شہداء کے ورثا کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کی خاطر عدالت سے رجوع کرنا ، ایک طرح حکومت اور عدلیہ پر عدم اعتماد ہے اور انہیں جھنجھوڑ کر نیند سے جگانے کی کوشش ، لیکن خطرہ یہ ہے کہ یہ رٹ درخواست بھی یا تو برسوں تک موخر کردی جائے گی یا ناقابل سماعت قرار پائے گی، سیاسی معاملہ ہوتا ، کسی کے سیاسی مفاد کا سوال ہوتا تو فوراً سماعت ہوتی ، کسی دہشت گرد کے انسانی حقوق کا سوال ہوتا،کسی مہرنگ ، کسی دہشت گردوں کےسہولت کارجعلی صحافی کا مسئلہ ہوتا تو رٹ دائر ہونے سے پہلے ہی سماعت کافیصلہ ہوچکا ہوتا اورابتک فیصلہ بھی آگیا ہوتا، لیکن پاکستان کی بقاکامعاملہ ہے، یہ ملکی سلامتی اورانسانوں کو درندوں سے بچانے کاسوال ہے، ہمارے نظام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔
اس وقت اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرلیا جائے تو دہشت گرد ہمیشہ سے زیادہ کمزور حالت میں ہیں ۔ ٹی ٹی قیادت ہمیشہ سے موقع پرست اوربزدل ہے ، ناپاک عزائم کے لیے اپنے ہرکاروں کو شطرنج کے پیادوں کی طرح مرواتے ہیں اور خود کبھی اپنے دہشت گردوں کی قیادت کرتے ہوئے میدان میں نہیں آتے ، افغانستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں داد عیش دیتے ہیں ۔ دہشت گرد نور ولی، عمر مکرم خراسانی ہو ، فقیر محمدہو یا گل بہادر کہاں ہیں یہ ؟ خود کیوں میدان میں نہیں نکلتے ، ان کے بچے خودکش حملہ آور کیوں نہیں بنتے ؟ حالت ان کی یہ ہے کہ ایک دوسرے سے بھی خوف کھاتے ہیں۔مفاد کی خاطر ایک دوسرے کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ حسن سواتی، دولت خان، فضل اللہ، عتیق الرحمان عرف ٹیپو گل مروت اور عمر منصور کو افغانستان میں کن نامعلوم حملہ آوروں نے مارا ؟ اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں افغانستان کےاندر محفوظ اور آرام دہ ٹھکانوں میں مارے گئے۔ ان کی منافقت کی انتہا یہ ہےکہ ایک جانب افغان طالبان کی بیعت کا ڈھونگ رچاتےہیں تو دوسری جانب طالبان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے فتویٰ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں نام نہاد جہاد کا فریب دے کر غریب افغان شہریوں کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکتے ہیں ، جہاں ان کی دنیا ہی نہیں آخرت بھی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے ۔ تازہ مثال افغانستان کے صوبہ پکتیکا کاملک الدین مصباح ہےجو غلام خان بارڈرپر پاکستان میں دراندازی کے دوران ماراگیا اور افغان علاقے بولدک کا رہائشی حبیب اللہ عرف خالد ولدخان محمد ہےجو پشین میں فورسز کے مقابلے میں پکڑا گیا ۔ ٹی ٹی پی ہو بی ایل اے یا کوئی اور یہ سب اپنے ایجنڈے اوربیانیہ سے مخلص ہیں نہ اپنے ساتھیوں سے ، نہ دین نہ اخلاقیات سے ان کا کوئی تعلق ہے ،یہ صرف غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی کے لئے معصوم پاکستانیوں کا ہی نہیں ، دھوکے کا شکار اپنے ہی کارکنوں کو بھی خون بہاتے ہیں، اس وقت تک باز نہیں آتےجب خود ان کی فتنہ بازکھوپڑی میں گولی سوراخ نہ کردے ۔
وقت کا قاضی پکار رہا ہے ، قوم دیکھ رہی ہے ، لازم ہو چکا ہے کہ اب مزید تاخیر کرنے کے بجائے ہر اس کردار کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، جس نے اس ملک سے غداری کی ، دشمنی روا رکھی ، عوام ، فورسز اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ، چاہے ان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں ، 9مئی کو ریاست پر حملہ آور ہونےوالےشرپسند ۔
قریب ہے یار روز محشر چھپے گا کشتوں کا قتل کیوں کر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا