\
بدھ‬‮   7   جنوری‬‮   2026
 
 

وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ

       
مناظر: 314 | 6 Jan 2026  

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ  عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔

رپورٹ کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا، طریقہ کار طے کیا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی، ملاقات کے بعد ہلہ گلہ کا ماحول ہوتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو طریقہ کار  پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں طریقہ کار کی پاسداری کریں، قانون پر عمل کریں تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں، اگر ہائیکورٹ حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو یہ کیوں عدالت نہیں جاتے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تو کہا گیا ان کے پاس اختیار ہی نہیں، وزیراعظم نےاسٹیبلشمنٹ اور اپنے لیڈر نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفرکی ہے، آپ قبول کریں۔

ان کا کہنا تھا اب اپوزیشن کہتی ہےکہ ہم تحریک کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے جارہی ہے، اپوزیشن سمجھتی ہےکہ ان کی تحریک کی وجہ سے حکومت انہیں ٹریپ کرنے جا رہی ہے۔

سینئر رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرکے دیکھ لے اس کے بعد دوبارہ بات کرلیں گے، یہ کہتے ہیں پہلے ملاقات کرائیں، پھر بانی پی ٹی آئی کو منائیں گے، ہمیں اندازہ ہے بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے، بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی کو ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان ہوگا۔