\
بدھ‬‮   7   جنوری‬‮   2026
 
 

خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

       
مناظر: 970 | 6 Jan 2026  

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں  دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے  خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی جب کہ گزشت برس ملک میں 27 خود کش حملے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، اسے سبق سکھانا ضروری تھا، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طور پر منظم کیا،  دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں  دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔

گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 2 دہائی سے زائدعرصےسےجاری ہے، دہشت گردخوارج اورفتنہ الہندوستان ہیں، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال14ہزار658آپریشن خیبرپختونخوا میں کئے گئے، فوج،پولیس اور اداروں نے75ہزار175انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، بلوچستان میں58ہزار778انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، دہشت گردی کے5ہزار397واقعات ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  کے مطابق 2597دہشت گرد ہلاک کئے گئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری1235شہادتیں ہوئیں، گزشتہ سال 27خودکش حملے ہوئے،  خودکش حملے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں ہوئے، خیبرپختونخوا16 اور بلوچستان میں 10 حملے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک حملہ ہوا، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 3 ہزار811 واقعات ہوئے، 2021سے2025تک خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات بڑھے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فتنہ الہندوستان کے خلاف واضح موقف ہے، 2021کے دوران خیبرپختونخوا میں193دہشت گرد ہلاک ہوئے، گزشتہ سال دہشتگردی کیخلاف تاریخی اورنتیجہ خیز تھا، 2021میں دوحہ معاہدے میں طالبان نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیے، افغان سرزمین دہشتگردی کیلیے استعمال نہیں ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی  نے کہا کہ آر دوحہ معاہدے میں کہاگیا افغانستان میں خواتین کو حقوق ملیں گے،  کیا2021کے بعد دوحہ معاہدے کے وعدوں پر عمل ہوا؟ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔

ترجمان پاک افواج  نے کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے،  وہ خود کو عبوری افغان حکومت کہلواتے ہیں لیکن وہاں کوئی حکومت نہیں، القاعدہ،داعش،بی ایل اے افغانستان میں موجود ہے، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈرلایا گیا، شام سے2ہزار500دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے، شام سے افغانستان منتقل ہونیوالے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں،ڈی جی افغان بارڈربندکرنے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف  نے کہا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرزعمل کے مطابق منظم کیا،  فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگادیا، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بنا کرپیش کرتا ہے، افغانستان دہشت گردوں کو براہ راست اسپورٹ کررہا ہے، افغانستان وار اکانومی کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا کہ واراکانومی کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے،  افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا،  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکومادو۔

ترجمان پاک افواج نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیررگٹھ جوڑ موجود ہے،  خیبرپختونخوا کی بنیادپر206انٹیلی جنس آپریشن کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہاجاتا ہے2026میں افغانستان اوربھارت ملکرپاکستان پر حملہ کرینگے، افغانستان اور بھارت آجائیں ان کا شوق پورا کریں گے، ہندوستان میڈیاپربیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے چھپ کرنہ بیٹھے، ارنب گوسوامی کو دیکھ کرہنس کیوں رہے ہیں، یہ بھارتی دانشور ہے، مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیااوتارمل گیا۔