\
جمعہ‬‮   23   جنوری‬‮   2026
 
 

امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل

       
مناظر: 533 | 23 Jan 2026  

امریکا نے ایران کی جانب بڑی فوجی روانہ کر دی ہے جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیوس سے واپسی پر طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ایک بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جا رہی ہے، تاہم دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتا کہ کچھ ہو تاہم ایران پر گہری نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو امریکا کارروائی کرے گا اور ایران نے ہماری دھمکی پر پھانسیاں روک دیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایران میں 827 پھانسیاں رکوائیں اور اگر ایران میں پھانسیاں جاری رہتیں تو امریکا حملہ کر دیتا، ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف جلد لگا دیں گے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر کارروائی کرے گا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور بڑی بحری اور فضائی قوت ایران کی طرف بھیج رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کریں گے۔

غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ اس فورس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کرے گا تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا اس کا جواب دے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو حملہ کر دیں گے اور ایران پر ممکنہ حملہ جوہری پروگرام سے بھی بڑا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔