واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف جمعہ کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جو مذاکرات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی بینک 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اب کوئی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل نہیں ہو رہا۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہے اور وہ اس حوالے سے اچھی خبروں کے لیے پُرامید ہیں۔
ان کے مطابق یوکرین، روس جنگ کے باعث ہر ماہ تقریباً 25 ہزار افراد مارے جا رہے ہیں، جبکہ روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان شدید نفرت باعثِ شرم ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا میں اب تک 8 جنگیں رکوا چکا ہے اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات بہترین ہیں۔
وینزویلا کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائی کے بعد وہاں کی قیادت کا رویہ تبدیل ہوا ہے۔
ایران کے بارے میں ایک بار پھر سخت لہجہ اپناتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ڈیل کی ضرورت ہے اور کسی معاہدے پر بات چیت ناگزیر ہو چکی ہے بصورتِ دیگر نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کا جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں۔
