سال 2024 میں سامنے آنے والے مثبت اور منفی دونوں رجحانات 2025 میں پاکستان کے معاشی منظرنامے کی سمت کا تعین کریں گے۔ اگرچہ بعض شعبوں میں قابلِ ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم کئی سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں جو آئندہ سال معاشی ترقی اور استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
2024 کی مثبت پیش رفت
2024 کی سب سے اہم کامیابیوں میں مہنگائی میں نمایاں کمی شامل ہے۔ جنوری میں 28.4 فیصد کی بلند سطح پر موجود مہنگائی اگست تک کم ہو کر 9.6 فیصد رہ گئی اور نومبر میں غیر معمولی طور پر 4.9 فیصد تک آ گئی۔ یہ کمی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں بہتری کی عکاس ہے جس سے صارفین پر دباؤ کم ہوا۔ ادائیگیوں کے توازن میں بھی بہتری آئی، جہاں 2024 کے پہلے نو ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محض 429 ملین امریکی ڈالر رہا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے آنے والی رقوم ہیں، جبکہ 2023 کے اختتام پر یہ ذخائر 6.159 ارب ڈالر تھے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بجٹ خسارہ کم کرنے میں بھی پیش رفت کی، جو ستمبر 2024 تک کم ہو کر جی ڈی پی کے 3 فیصد پر آ گیا، جبکہ اسی مدت میں 2023 میں یہ 4.3 فیصد تھا۔
2025 کے لیے منفی رجحانات اور خدشات
مہنگائی میں کمی کے باوجود معاشی نمو مایوس کن رہی ہے۔ جی ڈی پی کی شرحِ نمو مسلسل کم سطح پر رہی جبکہ روزگار میں اضافہ نہایت محدود رہا۔ بے روزگاری کی شرح تقریباً 11 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے، جو حالیہ تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ مزید برآں، سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر سرمایہ کاری کمزور رہی، جس کی بنیادی وجہ بلند شرحِ سود ہے، جس نے قرض گیری اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی۔
2025 کے لیے ایک تشویشناک رجحان زرعی شعبے کی ناقص کارکردگی ہے، بالخصوص کپاس کی پیداوار میں، جو 2024 میں 25 سے 30 فیصد تک کم ہو گئی۔ گندم کی فصل کا منظرنامہ بھی مایوس کن دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح بڑے پیمانے کی صنعتوں کا شعبہ مشکلات کا شکار رہا، جہاں سیمنٹ، لوہا، اسٹیل اور کیمیکل جیسی صنعتوں میں منفی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں معمولی 2.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
آئی ایم ایف کی 2024-25 کے لیے پیش گوئیاں محتاط امید کی عکاسی کرتی ہیں، جن کے مطابق جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.2 فیصد اور 2025-26 میں 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کی صلاحیت پر خدشات ان تخمینوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ متعدد ساختی اصلاحات، جیسے ٹیکس وصولی میں بہتری (خصوصاً ایف بی آر میں) اور زرعی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ، کے بروقت مکمل ہونے کا امکان کم ہے، جس کے باعث مارچ 2025 میں متوقع آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے میں تاخیر یا تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔
جیسے ہی 2024 کا کم بنیاد (لو بیس ایفیکٹ) ختم ہوگا، 2025 کے دوسرے نصف میں مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ ایف بی آر کی آمدن میں کمی کی صورت میں حکومت کو بالواسطہ ٹیکس بڑھانے اور توانائی کے نرخوں میں اضافے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 2025-26 کے لیے 7.8 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی ان دباؤ کے تناظر میں غیر حقیقت پسندانہ محسوس ہوتی ہے۔
اگرچہ آئی ایم ایف نے 2024-25 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0.9 ارب ڈالر تک محدود رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم 2025-26 میں اگر معاشی نمو میں تیزی آئی تو درآمدات میں اضافے کے باعث یہ خسارہ بڑھ سکتا ہے، جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگر بیرونی مالی معاونت توقعات سے کم رہی۔
مجموعی طور پر 2025 میں پاکستان کا معاشی منظرنامہ محتاط غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتا ہے۔ مہنگائی پر قابو اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اگرچہ مثبت اشارے ہیں، لیکن جی ڈی پی کی کمزور نمو، بلند بے روزگاری، زرعی پیداوار میں کمی اور مالیاتی استحکام کے مسائل سنگین خطرات بنے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی نسبتاً پرامید پیش گوئیاں بھی ساختی اصلاحات اور آمدنی بڑھانے میں ناکامی کے باعث حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتی ہیں۔ آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر یا پروگرام کی معطلی معاشی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کا خدشہ ہے۔
ان متضاد عوامل کے پیشِ نظر، اگر بنیادی ساختی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو 2025 میں پاکستان کی معیشت کے لیے خاطر خواہ اور پائیدار ترقی حاصل کرنا مشکل رہے گا۔
