جمعرات‬‮   23   مئی‬‮   2024
 
 

آڈیو لیکس کیس، پیغام ملا پیچھے ہٹ جاؤ، جسٹس بابر، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہاگیا، وزیر اطلاعات، تاثر دیا گیا کہ ادارے مداخلت کرتےہیں، وزیر قانون

       
مناظر: 315 | 15 May 2024  

 

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کو خط لکھا گیا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے لکھا کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کا پیغام ملا کہ سرویلینس کے طریقہ کار کی اسکروٹنی سے پیچھے ہٹ جاؤ، میں نے دھمکی پر کوئی توجہ نہیں دی، مجھے نہیں لگا کہ ایسے پیغامات نے انصاف کی فراہمی میں نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا کیا، متعلقہ وزارتیں، ریگولیٹری باڈیز، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے کو نوٹس کیے، جبکہ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، کسی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افسر نے براہ راست رابطہ کیا نہ کرسکتے ہیں، ایسا تاثر دیا جارہا عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان تعلقات خراب ہیں،وفاقی وزیر قانون نے کہا خط سے تاثر دیا گیا کہ عدلیہ میں اداروں کی مداخلت ہورہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کسی نے نہیں کہا پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا، ایک معاملے پر قومی سلامتی پر سوالیہ نشان نہیں اٹھانا چاہیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اپنے خلاف منفی سوشل میڈیا مہم کے حوالے سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط میں انکشاف کیا ہے کہ آڈیو لیکس کیس کی سماعت کے دوران سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اعلی حکام کی جانب سے پیچھے ہٹ جانے کے پیغامات موصول ہوئے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے لکھا کہ میں نے ایسے دھمکی آمیز حربے پر کوئی توجہ نہیں دی، میں نے یہ نہیں سمجھا کہ ایسے پیغامات سے انصاف کے عمل کو کافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق خط میں لکھا گیا ہے کہ آڈیو لیکس کیس میں خفیہ اور تحقیقاتی اداروں کو عدالت نے نوٹس کیے، متعلقہ وزارتیں، ریگولیٹری باڈیز، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے کو نوٹس کیے، عدالت نے پی ٹی اے اور پیمرا کو بھی نوٹس کیے تھے۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خط کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار کے خط کے حوالے سے وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں، ریاست کی کچھ حساس معلومات ہوتی ہیں، حساس معلومات کے حوالے سے اٹارنی جنرل یا ایڈووکیٹ جنرل رابطہ کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جسٹس بابر ستار کے خط کے مندرجات سے تاثر دیا گیا کہ ادارے مداخلت کرتےہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نےکہا ہے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں ہورہی، چھ جج صاحبان کےخط کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اٹارنی جنرل نے ایک خط سےمتعلق وضاحت پیش کی ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس دہری شہریت ہے تو اسے ڈکلیئر کرنا ہوتا ہے، اس ایک معاملے پر قومی سلامتی پر سوالیہ نشان نہیں اٹھانا چاہیے اور قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، عدالت کو صرف ان کیمرہ بریفنگ کا کہا گیا تھا کسی نےنہیں کہا کہ پیچھےہٹ جاؤ۔