دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کرسمس کے دوران عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد ناقابلِ قبول اور سخت مذمت کے قابل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں کے گھروں کی مسماری اور ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، اور محمد اخلاق کے قتل سمیت متعدد واقعات میں مجرموں کو بھارتی ریاستی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ ان واقعات نے مقامی مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت میں کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے، کیونکہ متاثرین کی فہرست طویل اور افسوسناک ہے۔
