حکومت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں احتجاج اور معاملہ اٹھانے کے بعد صدر مملکت کی منظوری کے بغیر جاری ہونے والے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔
حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 واپس لینے کی منظوری دے دی۔
آرٹیکل 89(2)(b) کے تحت صدرِ مملکت کو آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دے دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی سمری پر دستخط کر دیے۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کل ای آفس ہے جس سے فائلز کی اپرول آن لائن ہوتی ہے، اس آرڈیننس کی بھی اپرول ہو گئی، اسٹاف ٹو اسٹاف اس کو منظور شدہ سمجھا۔
اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ دستخط شدہ فائلز موصول ہوئیں تو اس آرڈیننس پر دستخط نہیں تھے اور اس پر پرنٹنگ ہو چکی تھی، یہ غلطی ہوئی جس کی درستی کی گئی۔
وزیر قانون نے کہا کہ جو بل مشترکہ اجلاس سے صدر کے پاس جائے تو صدر دس روز اس کو رکھ سکتے ہیں، خیر سگالی کے تحت ان بلز کو بھی نوٹیفائی نہیں کیا گیا کیونکہ صدر نے منظوری نہیں دی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا آپس میں اچھا تعلق ہے،اس تعلق کی وجہ سے اس آرڈیننس کو بھی واپس لیا گیا، آئندہ بھی معاملات کو افہام و تفہیم سے چلائیں گے۔
پیپلزپارٹی نے آرڈیننس جاری ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس تو واک آؤٹ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔
