پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پی آئی اے کی نجکاری کے جشن پر گونگ بیل تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری بلاشبہ شفافیت کے ساتھ ہوئی۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو رہی تھی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹی پلس ون میں مشغول تھی۔
انہوں نے کہا کہ جے پی مورگن کے سرمایہ کاروں نے گزشتہ روز بڑی سرمایہ کاری ٹرانزیکٹ کرنے کا سوال پوچھا تو ہمارا جواب ٹی پلس ون تھا۔ پاکستان ٹی پلس ون پر منتقل ہونے والا ساتواں ملک بن چکا ہے۔ مقامی میوچل فنڈز کی خریداری کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایچ بی ایل کی ایک ارب ڈالر کی ٹرانزیکشن ہوئی، کچھ عرصہ قبل یو بی ایل کی 40کروڑ ڈالر ٹرانزیکشن ہوئی تھی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2017 میں 100ارب ڈالر ہو گئی تھی۔ فی الوقت ڈالر کی صورت میں مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 74ارب ڈالر ہے۔ روپے کی صورت میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 21 ہزار ارب کی تاریخی بلند ترین سطح پر ہے۔
چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی کا خطاب میں کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے زیادہ بہتر نجکاری پہلے کسی ریاستی ادارے کی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے بطور نگراں وزیرِ خزانہ پی آئی اے کی ضمانتوں کو ایڈجسٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو سالانہ 1800ارب روپے کپیسٹی چارجز ادا کیے جاتے ہیں۔ گیس کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود گیس امپورٹ کر کے کاروباری لاگت بڑھائی گئی۔ حکومت کو فیصلہ سازی کیلئے کیپیٹل مارکیٹس کے نمائندگان سے مشاورت کرنی چاہیئے۔
چیئرمین عارف حبیب گروپ، عارف حبیب کا خطاب میں کہنا تھا کہ پی آئی اے کی ٹرانزیکشن 180 ارب روپے تاریخ کی سب سے بڑی ٹرانزیکشن ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کا جشن پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ہی منانا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے اسٹرکچر سے متعلق کافی سوالات اٹھے کہ محض 10ارب روپے ادا کیے گئے۔ ہم نے 55ارب روپے ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ 45کروڑ ڈالر پی آئی اے کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔
