\
منگل‬‮   20   جنوری‬‮   2026
 
 

ناسا کا پرواز کے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے فضا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا تجربہ

       
مناظر: 586 | 19 Jan 2026  

ناسا ہوابازی کے شعبے میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور فضائی نظام کے ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ اور خلل سے محفوظ رکھنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہا ہے۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں حال ہی میں ایک تجربہ کیا گیا، جس میں ڈرونز کے ذریعے ایک ڈی سینٹریلائزڈ ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی توثیق کی گئی، جس کا مقصد طیاروں اور گراؤنڈ کنٹرول کے درمیان مواصلات کو محفوظ بنانا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اقدام ناسا کے ایئر ٹریفک مینجمنٹ اور سیفٹی پروجیکٹ کا حصہ ہے اور مستقبل میں فضائی نظام کو یکسر تبدیل کرنے صلاحیت رکھتا ہے۔

ناسا کے اس تجربے کا بنیادی حصہ ترمیم شدہ Alta-X ڈرون تھا اور اس سے کیلیفورنیا کے سلیکون ویلی میں قائم ایمز ریسرچ سینٹر میں معمولی حالات میں اڑایا گیا، ڈرون میں ایک خصوصی نظام نصب تھا جس میں جی پی ایس ماڈیول، ریڈیو ٹرانسمیٹر اور بلاک چین سے مربوط کمپیوٹر سسٹم شامل تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تجربے میں محققین کو یہ جانچنے کا موقع ملا کہ بلاک چین پر مبنی فریم ورک عملی آپریشنل ماحول میں کس طرح کارکردگی دکھاتا ہے۔

بلاک چین روایتی ڈیٹا بیس کے برعکس ڈی سینٹریلائزڈ لیجز کے طور پر کام کرتا ہے جہاں معلومات متعدد نظام میں شیئر ہوتی ہیں اور ہر تبدیلی کو ریکارڈ اور تصدیق کیا جاتا ہے، اس طریقہ کار سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ پرواز سے متعلق ڈیٹا سائبر دباؤ یا حملوں کے باوجود مستند، ناقابل تبدیلی اور شفاف رہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نظام ٹیلی میٹری، آپریٹر رجسٹریشن اور فلائٹ پلانز جیسے ہوابازی کے حساس ڈیٹا کی محفوظ اور حقیقی وقت میں ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ صرف تصدیق شدہ اور قابل اعتماد صارفین ہی ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے ڈیٹا میں ردوبدل یا غیر مجاز رسائی سے تحفظ ملتا ہے۔

تجربے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس نوعیت کا ڈی سینٹرلائزڈ انفرا اسٹرکچر خودکار گاڑیوں، شہری فضائی نقل و حرکت اور یہاں تک کہ بلند فضائی آپریشنز کی معاونت کے لیے بنیادی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

ناسا کی رپورٹ کے مطابق اس تجربے سے ثابت ہوا کہ بلاک چین نظام دانستہ سائبر دباؤ کی صورت میں بھی مضبوط اور مستحکم رہ سکتا ہے۔

مزید بتایا کہ ٹیم نے ڈرون پرواز کے دوران متعدد ٹیسٹ بھی کیے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ حقیقی سائبر حملوں کی صورت میں نظام کا ردعمل کیا ہوگا تاہم بلاک چین فریم ورک نے مؤثر کارکردگی دکھائی اور پورے عمل کے دوران ڈیٹا کا تحفظ برقرار رہا۔