کابل (رپورٹ : عمر ابدالی )
طالبان نے ہرات میں کم از کم 21 خواتین اور لڑکیوں کو طالبانی ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لے لیا ہے، جن میں ایک نرس بھی شامل ہے۔ہمارے سورسز کے مطابق یہ گرفتاریاں طالبان کی ہرات میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری کردہ حالیہ ہدایت نامے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس ہدایت نامے میں مرد خاندانی افراد سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کو بغیر مناسب حجاب کے عوام میں ظاہر ہونے سے روکیں۔دستاویز میں مرد رشتہ داروں پر بھی ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ طالبان کے ڈریس کوڈ کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔مقامی ذرائع کے مطابق، ان خواتین اور لڑکیوں کو ہرات کے مختلف علاقوں میں حراست میں لیا گیا، جن میں شہر کا جنوبی روڈ، الماس مارکیٹ اور قصر کا علاقہ شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ طالبان اہلکاروں نے حراست میں لیے گئے افراد کو خبردار کیا کہ پہلی خلاف ورزی پر ایک ہفتے کی حراست ہو سکتی ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کو ہرات کی مرکزی جیل میں ایک ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔حراست میں لیے جانے والوں میں ہرات ریجنل ہسپتال میں کام کرنے والی ایک نرس بھی شامل ہے، جو ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرزنامی عالمی این جی او کے ساتھ کام کرتی ہے اور اسے رات کی ڈیوٹی کے دوران حراست میں لیا گیا، حالانکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ تھی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طالبان نے ہرات ریجنل ہسپتال میں کئی مرد ڈاکٹروں اور نرسوں کو اکٹھا بیٹھنے پر بھی حراست میں لیا ۔ ذرائع کے مطابق، طالبان حکام نے تمام مرد ہسپتال ملازمین کے لیے داڑھی بڑھانے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ جن کی داڑھی مقررہ لمبائی سے کم ہوگی، انہیں حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔