سب کو معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی پورے ملک میں برسر اقتدار ہے سوائے پیپلز پارٹی کے جو حکومت میں ہوکر شاید اتنے فائدے نہ اُٹھاسکتی جتنے اُس نے حکومت کے ساتھ رہ کر اٹھائے ہیں اب بجٹ پاس کروانے کے عوض وہ چاہتی تھی کہ گلگت بلتستان میں بھی اسکو حکومت دی جائے ۔اسی لیے پی پی کوالیکشن کے رزلٹ خواہش کے عین مطابق دئیے گئے ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر میں جو حالات خراب ہوئے اس میں پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر کی حکومت شامل ہے اگر آزادکشمیر حکومت چاہتی تو یہ شورش اٹھتی ہی نہ حالیہ صورت حال میں مقامی حکومتی غائب ہے ایک پلان کے تحت مرکز کا تحریبی عناصر سے ٹکراؤ کروایاگیا۔ تخریبی عناصر جس انداز سے اگے بڑھے صاف محسوس ہورہاتھا کہ انہیں یقین ہے کہ مقامی حکومتی ادارے ہمارا راستہ نہیں روکیں گے ہماری سہولت کاری کریں گے۔ بھارت کی فنڈنگ اور پی ٹی آئی اور تحریک طالبان کی افرادی قوت جو کہ تخریب کاری میں ماہر ہے انہوں نے مل کر عوامی مسائل کے حل اور بنیادی حقوق کے حصول کے نام پر ایک جعلی لیڈر شپ کھڑی کی جس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے عوام کو ورغلانہ شروع کیا یہ لوگ مقامی حکومت کے ساتھ بھرپور رابطہ میں تھے کسی مناسب موقع کی تلاش میں اپنی تیاری کررہے تھے انہیں مقامی حکومت کی طرف سے اپنی خاموشی کا سگنل ملتے ہیں کاروائی شروع کردی گئی۔ بھارت پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کا یک نقطی ایجنڈہ تھا کہ مقامی کشمیریوں کو پاکستان اور اپک فورسز سے متنفر کرنا فورس کو ظالم ثابت کرنا ۔پی پی کا مقصد تھا کے اسکو بنیاد بنا کر الیکشن ملتوی کروائے تاکہ پیپلز پارٹی کو مزید چھ ماہ مل جائیں اور وہ چاہتی ہے آنے والے الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت بنائے ن لیگ صرف وفاقی میں حکومت لے کر پورے ملک سے صرف گالیاں کھا رہی ہے بقول ایک سیانے کھان پین نوں باندری تے ٹنمبے کھان نوں ریچھ۔
بعض عناصرتو یہاں تک کہتے ہیں کہ یواے ای پاکستان چپقلش میں بھی ایک بھاری شخصیت کا ہاتھ ہے۔ جسے یہ مرض لاحق ہے کہ عالمی منظر میں پاکستان کی اہمیت کے کردار میں مجھے شامل نہیں کیاجاتا۔اور انہوں نے اپنے تئیں چین اور ایرن امریکہ معاملات میں اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کی۔اورفیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر کی کوشش سے پاکستان جو پزیرائی عالمی سطح پے ملی غیروں کے ساتھ ساتھ کچھ بھاری بھرکم اپنوں کی آنکھوں میں سفید موتیا اُترآیاہے۔ فیلڈ مارشل نے کہا تھا ہمیں وہ دیا قبول نہیں جس میں پاکستان نہ ہو۔ بھاری بھرکم شخصیت کا بھی یہی فرمان ہے ہمیں ایسی کوئی پزیرائی کوئی عالمی سطح پر اہمیت پاکستان کی قبول نہیں جس میں ہم نہ ہوں۔پاکستان کی اندرونی سازشیں بیرونی سازشوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ بھاری بھرکم شخصیت آہستہ آہستہ اپنا جال پھیلاتے جارہیں جس میں اُن کے ساتھ اندرونی اور بیرونی “خیرخواہ” بھی شامل ہیں۔
ایسی صورت حال میں ہمیں اپنے اور اپنے ملک کے محافظوں کے پشتبان بنناہے۔ یہ بھاری بھرکم یہ گرگٹ یہ برساتی مینڈک اپنی فطرت کی مطابق ٹراتے رہیں گے۔ ان پرواہ نہیں کرنا۔ وطن کے لیے وطن کے ساتھ ہے ہماراجینامرنا۔ پاکستان زندہ باد ہمیشہ زندہ باد