ثناء اللہ مجاہد
تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے۔ جنگیں ہمیشہ بارود سے نہیں جیتی جاتیں، بعض اوقات دشمن کو شکست دینے کے لیے اس کے اتحادیوں کو آپس میں الجھا دینا ہی کافی ہوتا ہے۔ جب دشمن خود اپنے گھر میں آگ بجھانے میں مصروف ہو جائے تو بیرونی حملہ آور کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں یہی سوال میرے ذہن میں بار بار دستک دیتا ہے۔
اگر ایران واقعی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف صفِ آرا ہے تو پھر اس کی جوابی حکمتِ عملی کا رخ انہی طاقتوں کی طرف کیوں نہیں ہوتا جو براہِ راست حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں؟
یہ سوال کسی ایک شخص کا نہیں، لاکھوں لوگوں کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔
ہر چند ہفتوں بعد خبر آتی ہے کہ اسرائیل نے ایران کی کسی تنصیب کو نشانہ بنایا، امریکہ نے فلاں مقام پر حملہ کیا، جدید میزائل داغے گئے، جنگی طیارے فضا میں گرجے۔ مگر اس کے بعد آنے والی اطلاعات حیران کن ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نقصان محدود رہا، اہم تنصیبات پہلے ہی خالی کرا لی گئی تھیں یا ہدف صرف مخصوص مقامات تھے۔
اگر ایران واقعی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو پھر اس کی جوابی حکمتِ عملی کا رخ براہِ راست انہی طاقتوں کی جانب کیوں نہیں ہوتا جو حملوں کی ذمہ دار قرار دی جاتی ہیں؟
اب ایران نے مسلم ممالک کو اونٹوں کے دور میں دھکیلنے کی بات ہے تو “کُتی کپاس سے اچھی طرح نکل آئی ہے” کہ ایرانی پاسداران کس کے لیے کام کررہے ہیں۔ لڑائی امریکہ ایران کی نہیں اسرائیل اور اسلام کی ہے ۔ایران اسرائیل کا ہراول دستہ کے طور کام کررہاہے۔جوثیوں کے ساتھ مل کر ایران مسلم ممالک کو گھیرنے اور گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لیےایک اور سمندری راہ داری بندکرنےکا منصوبہ بناچکاہے۔ اب کُھل کر ظاہرہوگیاہے کہ جنگ اسلام اور اسرائیل کی ہے اور اسلام سے جنگ ایران اسرائیل کے لیے لڑرہاہے۔
یہ سوال صرف عام عوام ہی نہیں بلکہ بہت سے مبصرین اور تجزیہ کاروں کے ذہنوں میں بھی گردش کر رہا ہے۔
ہر بار جب اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی خبریں آتی ہیں تو کچھ ہی دیر بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی ہیں کہ جانی یا مالی نقصان محدود رہا، یا اہم تنصیبات پہلے ہی خالی کرا لی گئی تھیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا جدید جنگوں کی حقیقت وہی ہے جو اسکرینوں پر دکھائی دیتی ہے، یا تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے؟
اس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے، مگر ان کا رخ اکثر ایسے مسلم ممالک کی طرف دکھائی دیتا ہے جہاں امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے تحت فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس حکمتِ عملی سے اصل فریق پر دباؤ پڑتا ہے، یا اس کا سب سے بڑا بوجھ مسلم دنیا کو اٹھانا پڑتا ہے؟
اگر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر بحری قوت ایران کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں موجود ہوں، تو پھر براہِ راست جواب کا رخ ان کی طرف کیوں نہیں ہوتا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا واضح جواب آج تک سامنے نہیں آ سکا۔
اسی تناظر میں ایک اور بحث بھی جنم لیتی ہے۔ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاسدارانِ انقلاب کی علاقائی حکمتِ عملی غیر ارادی طور پر انہی نتائج کو جنم دے رہی ہے جن سے اسرائیل کو فائدہ پہنچتا ہے؟ کیا خطے میں کشیدگی کا دائرہ وسیع کر کے مسلم ممالک کو کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل تصادم اپنی بنیادی سمت اختیار نہیں کر رہا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر سنجیدہ تحقیق اور کھلے مباحثے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح بعض تجزیہ کار یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر خطے کے مختلف محاذ ایک ہی وقت میں بھڑک اٹھیں تو اس سے نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ پاکستان سمیت پورا خطہ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان خدشات کی مختلف تشریحات موجود ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ علاقائی عدم استحکام کا سب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک ہی اٹھاتے ہیں۔
ایران اس کی جو بھی توجیہ پیش کرے، زمینی حقیقت یہی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سب سے زیادہ بوجھ مسلم دنیا پر پڑ رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی جاری رہتی ہے، دوسری طرف مسلمان ریاستیں عدم تحفظ، معاشی دباؤ اور جنگ کے خطرات میں گھرتی چلی جاتی ہیں۔
اگر یہ حکمتِ عملی شعوری انتخاب ہے تو اس پر سنجیدہ سوال اٹھنا ناگزیر ہے، اور اگر یہ مجبوری ہے تو پھر اس مزاحمتی بیانیے پر بھی نظرِ ثانی کی ضرورت ہے جو خود کو فیصلہ کن قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
عالمی امن کا تقاضا یہ نہیں کہ جنگ کا دائرہ وسیع کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ تنازعات کو مزید ریاستوں تک پھیلنے سے روکا جائے۔ کیونکہ جب ہر حملے کا جواب ایک نئے محاذ کی صورت میں سامنے آئے تو اس کا نتیجہ صرف ایک ہوتا ہے: پورا خطہ عدم استحکام، خوف اور تباہی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
آج ضرورت نعروں کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ طاقت کے مظاہرے کی نہیں، ذمہ دارانہ فیصلوں کی ہے۔ ورنہ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ صرف ایک خطے کو نہیں، پوری دنیا کے امن، معیشت اور مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔