کابل(عمرابدالی ) ایک جانب افغانستان کے ہسپتالوں میں لاکھوں مریض ادویات کے لئے ترستے ہوئے لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب جا رہے ہیں ، دوسری جانب طالبان حکام نے بے شرمی سے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ ہلمند میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کسٹم حکام کی جانب سے ضبط کی گئی 6 ہزار 882 کلوگرام اسمگل شدہ ادویات کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے، جبکہ تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان سےغیر قانونی طور پر درآمد کی جانے والی اشیا کی تجارت سے گریز کریں۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ تجارتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ تقریباً ایک سال سے معطل ہے، جس کے باعث بعض افراد دونوں ممالک کے درمیان ضروری اشیا اسمگلنگ کے راستوں سے منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث دونوں ممالک میں بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔