کابل( عمر ابدالی ) اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 49 لاکھ ماؤں اور بچوں کو فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے، اور بروقت اقدامات سے لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔اوچا نے پیر، 20 جولائی کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان میں لاکھوں مائیں غذائی قلت کے خطرے کے باوجود اپنے بچوں کی صحت اور بہتر مستقبل کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ ادارے کے مطابق غذائی قلت کے بحران کو مزید سنگین ہونے سے روکنے کے لیے ان ماؤں اور بچوں کی فوری معاونت ناگزیر ہے۔اوچا نے زور دیا کہ غذائی قلت کی روک تھام اور علاج کے پروگراموں میں سرمایہ کاری نہ صرف انسانی جانیں بچانے میں مدد دے گی بلکہ صحت کے شعبے پر اخراجات کم کرے گی، معیشت کو مضبوط بنائے گی اور آئندہ نسلوں کو غذائی قلت کے مسلسل چکر سے نکالنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق رواں سال افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر 37 لاکھ بچے غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔دوسری جانب طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (میڈیسنز سانس فرنٹیئرز) نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران جنوبی افغانستان میں اس کے زیرِ معاونت مراکز میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد گزشتہ تین برسوں میں اسی عرصے کے اوسط کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ رہی۔تنظیم کے مطابق بین الاقوامی امداد میں کٹوتیاں بھی افغانستان میں غذائی قلت کے بحران کو مزید سنگین بنانے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔