روس اور یوکرین کے درمیان تازہ میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے تبادلے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں روس میں 9 اور یوکرین میں 5 افراد شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں حالیہ دنوں کے دوران حملوں کی شدت اور دائرہ کار میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقے بیلگوروڈ پر کیے گئے حملوں میں 4 افراد جان سے گئے، جن میں کھیل کے میدان کے قریب موجود 13 سالہ بچی بھی شامل تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچی شدید زخمی ہوئی تھی، تاہم اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
اسی طرح روس کے ساراتوف ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اُدمرتیا کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں مزید 3 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
دوسری جانب یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی حملوں میں دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں 2 افراد، جبکہ زاپوریزژیا اور خیرسون میں ایک، ایک شہری ہلاک ہوا۔
یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں ایک ڈاک ٹرمینل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جہاں موجود ایک ڈاک ملازم بھی ہلاک ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
روس اور یوکرین دونوں کا مؤقف ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے تاہم دونوں جانب ہونے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں خطے میں مزید کشیدگی اور انسانی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔