تحریر: ثنا تسور
پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومت اسے مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد طاقتور سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی اور اس نے ان مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا جنہیں سابقہ حکومت حل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ تاہم، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مختلف طریقوں سے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ بھاری ٹیکس حکومتی استحکام کا باعث بنیں گے یا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں گے۔
گزشتہ چار ماہ کے دوران حکومت نے بجلی، خوراک، اسٹیشنری، ایندھن، چینی اور گیس سمیت متعدد بنیادی اشیائے ضرورت پر بھاری ٹیکس عائد کیے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے 300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے، سولر پینلز کی تنصیب اور غریبوں کو گھروں کی فراہمی جیسے وعدے کیے، لیکن اس کے ساتھ ہی 200 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس کے باعث اوسط طبقے کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق، ایک جانب آٹے، روٹی، چینی، گھی، سبزیوں اور بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے، جو اپوزیشن کے دور میں بند کر دی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں روٹی کی قیمت نہ صرف کم کی گئی بلکہ اسے پورے صوبے میں یکساں طور پر نافذ بھی کیا گیا۔ مارچ میں 10 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 1,380 روپے تھی، جو اب کم ہو کر 800 روپے رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دیگر صوبوں نے روٹی کی قیمت 12 تا 13 روپے مقرر تو کی، مگر اس پر عمل درآمد یقینی نہ بنا سکے۔ وزیراعلیٰ نے “مریم کی دستک” پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت عوام کو سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم دوسری جانب، پنجاب حکومت نے “صفائی” کے نام پر ہر گھر سے ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔
حکومت نے بجلی ہی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد کر دیا ہے، حالانکہ ان کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ سرکاری ملازمین کو بظاہر زیادہ تنخواہ ملے گی، لیکن اس کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کی صورت میں کٹ جائے گا، جس سے ان کی حقیقی آمدن کم ہو جائے گی۔ حکومت کے میٹھے دعووں نے عوام کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ اپنی حالت پر خوش ہوں یا روئیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کی یہ دوہری پالیسیاں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی یا نہیں؟ کیا بجلی کے بلوں اور ایندھن کی قیمتوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنا اور آئی ایم ایف سے قرض لینا معیشت کو مضبوط کرے گا یا صورتحال کو مزید خراب کر دے گا؟ یا پھر یہ حکومتی حکمتِ عملیاں ملک پر اضافی بوجھ بن کر ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں گی؟
اگرچہ چار ماہ کا عرصہ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں کہ حکومت بھاری ٹیکسوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان میں غریب عوام اور خود حکومت، دونوں مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ ایک طرف عوام حکومتی قرضوں اور مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، تو دوسری جانب حکومت معیشت کو سنبھالنے کے لیے نئی اصلاحات اور حکمتِ عملیاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں اور بجٹ میں ایسی اصلاحات کرے جن سے عام آدمی کے لیے زندگی آسان ہو، قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے اور وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ یہی راستہ نہ صرف معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ ان پالیسیوں کا خاتمہ بھی کر سکتا ہے جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔