تحریر: ثنا تسور
پاکستان میں ڈیجیٹل قحبہ گری کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ اصطلاح بعض لوگوں کے لیے چونکا دینے والی ہو سکتی ہے، مگر اس کے معاشرتی اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ آن لائن کمائی، فیشن بلاگنگ یا وی لاگنگ کے نام پر خواتین کا استحصال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ شہرت کے بے رحم تعاقب نے بہت سے افراد کو اپنی اقدار پر سمجھوتہ کرنے اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ بالخصوص نوجوان لڑکیاں، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ فالوورز اور ویوز حاصل کرنا چاہتی ہیں، اس استحصال کا آسان شکار بن رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سی کم عمر لڑکیاں شہرت اور دولت کے حصول کے لیے اپنی اخلاقی اقدار، ثقافتی روایات اور مذہبی تعلیمات کو نظرانداز کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک، کے غلط استعمال نے فحاشی کے فروغ کو مزید تقویت دی ہے۔ اگرچہ کچھ افراد ایسا مواد بھی تخلیق کر رہے ہیں جو ہماری ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہے، تاہم اکثریت اپنی جسمانی نمائش اور ظاہری حسن کو استعمال کر کے فالوورز بڑھانے اور پیسہ کمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہرت اور دولت کی خواہش انہیں اس حد تک لے جا رہی ہے کہ وہ عزت، وقار اور اقدار کی پروا کیے بغیر ہر حد عبور کرنے پر آمادہ نظر آتی ہیں۔
پاکستان، ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے، خواتین کو ایک باوقار اور معزز مقام دیتا ہے اور انہیں متعدد حقوق حاصل ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ہم صنفی تشدد کے مقدمات میں انصاف کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جیسے موٹروے زیادتی کیس یا دیگر ہائی پروفائل واقعات، اور دوسری جانب ہماری ہی سوسائٹی میں ٹک ٹاکرز، اداکارائیں، یوٹیوبرز اور کانٹینٹ کریئیٹرز فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ تضاد بالخصوص ایک اسلامی معاشرے میں نہایت تشویشناک ہے۔
آج کی پاکستانی نوجوان نسل مذہبی تعلیمات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے رول ماڈلز اب اساتذہ، علما یا سماجی رہنما نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز بن چکے ہیں جو اپنی ذاتی زندگی کو وی لاگز کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس رجحان نے معاشرے میں اخلاقی اقدار کے زوال میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں لوگ مذہبی اصولوں پر عمل کرنے کے بجائے ان انفلوئنسرز کے طرزِ زندگی کی نقالی میں مصروف ہیں۔ تفریح اور آن لائن کمائی کی دوڑ نے لوگوں کو اس حد تک جکڑ لیا ہے کہ صحیح اور غلط کی تمیز دھندلا گئی ہے، اور اندھی تقلید عام ہوتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر سے متعلق سامنے آنے والا واقعہ بھی اسی مسئلے کی ایک مثال ہے، جس نے سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان لڑکیوں کو متاثر کیا ہوا تھا۔ اس قسم کے واقعات اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں شہرت اور مالی فائدے کے لیے اخلاقی حدود پامال کی جا رہی ہیں، اور بدقسمتی سے بہت سی لڑکیاں اسی راستے پر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تمام ٹک ٹاک استعمال کرنے والی لڑکیاں قابلِ اعتراض نہیں، مگر وہ افراد جو مقبولیت اور پیسے کے لیے جنسی نوعیت کا مواد پیش کرتے ہیں، دراصل ڈیجیٹل قحبہ گری کو فروغ دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہونے کے ناطے ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کی ہر حرکت دیکھی اور نقل کی جاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ ایسا مواد پیش کریں جو معاشرے کے لیے مفید ہو، نہ کہ محض تفریح کے نام پر سماجی حدود کو پامال کریں۔
یہ انفلوئنسرز پاکستان میں ڈیجیٹل قحبہ گری کے خلاف کردار ادا کر سکتے تھے، مگر افسوس کہ بہت سے لوگ اس کے برعکس اس رجحان کو تقویت دے رہے ہیں، جس سے ہمارا سماجی تانا بانا متاثر ہو رہا ہے۔ اگرچہ مالی ضروریات ہر انسان کی حقیقت ہیں، مگر دولت کے حصول کے لیے فحاشی کو فروغ دینا اور تمام حدود عبور کرنا کسی بھی صورت ایک اسلامی اور باوقار معاشرے میں قابلِ قبول نہیں، جہاں اخلاقی اقدار اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔