اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ “کچھ وقت” لے سکتی ہے، تاہم یہ برسوں پر محیط نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی لامتناہی جنگ نہیں ہے۔ فاکس نیوز کے پروگرام “ہینیٹی” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے کہا تھا کہ یہ تیز اور فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔ اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، مگر یہ برسوں نہیں چلے گی۔”
امریکی صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اس جنگ کا دورانیہ چار سے پانچ ہفتے بتایا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ زیادہ طویل بھی ہو سکتی ہے۔ حالیہ بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ کارروائی کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکام بنانا ہے، جس کی تہران تردید کرتا ہے۔
نیتن یاہو نے اس جنگ کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر بھی پیش کیا اور کہا کہ اس سے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب رائٹرز/ایپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف ایک چوتھائی امریکی شہریوں نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کی، جب کہ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کے بعد امریکی عوام بیرون ملک فوجی مداخلت کے حوالے سے محتاط نظر آتے ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن میں ایرانی عوام اپنی حکومت تبدیل کر سکیں، تاہم حتمی فیصلہ ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہوگا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کا واحد ملک سمجھا جاتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، جب کہ امریکہ بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔