فیفا کانگریس: فلسطینی عہدیدار کی اسرائیلی نمائندے کیساتھ تصویر بنوانے، ہاتھ ملانے سے انکار وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل وگیس کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی؛ صدر ٹرمپ اسرائیل نے غزہ امدادی فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں ناکام، ریونیو شارٹ فال 683 ارب تک پہنچ گیا پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر وزیر اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین یوم مئی، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، شرجیل میمن امریکا کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت اور تیز رفتار فوجی آپریشن پر غور بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ فیفا کانگریس: فلسطینی عہدیدار کی اسرائیلی نمائندے کیساتھ تصویر بنوانے، ہاتھ ملانے سے انکار وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل وگیس کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی؛ صدر ٹرمپ اسرائیل نے غزہ امدادی فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں ناکام، ریونیو شارٹ فال 683 ارب تک پہنچ گیا پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر وزیر اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین یوم مئی، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، شرجیل میمن امریکا کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت اور تیز رفتار فوجی آپریشن پر غور بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ
فیفا کانگریس: فلسطینی عہدیدار کی اسرائیلی نمائندے کیساتھ تصویر بنوانے، ہاتھ ملانے سے انکار وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل وگیس کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی؛ صدر ٹرمپ اسرائیل نے غزہ امدادی فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں ناکام، ریونیو شارٹ فال 683 ارب تک پہنچ گیا پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر وزیر اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین یوم مئی، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، شرجیل میمن امریکا کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت اور تیز رفتار فوجی آپریشن پر غور بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ فیفا کانگریس: فلسطینی عہدیدار کی اسرائیلی نمائندے کیساتھ تصویر بنوانے، ہاتھ ملانے سے انکار وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل وگیس کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی؛ صدر ٹرمپ اسرائیل نے غزہ امدادی فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں ناکام، ریونیو شارٹ فال 683 ارب تک پہنچ گیا پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر وزیر اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین یوم مئی، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، شرجیل میمن امریکا کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت اور تیز رفتار فوجی آپریشن پر غور بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ

اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا

Link copied!
اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا

برطانیہ کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اپنے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 45 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین نے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو اپنے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

خط میں کہا گیا کہ بالفور اعلان کے نتائج آج بھی مشرق وسطیٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے مطابق اسی اعلان نے بعد میں ایسے حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت کو اس تاریخی معاہدے کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

یاد رہے کہ سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر 1948 تک حکمرانی کی۔ تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے باضابطہ معافی مانگنے یا ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مقبول خبریں
Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *