پاک فوج کا دیگر فورسز کے ہمراہ “آپریشن شعبان” جاری، مزید 3 دہشتگرد ہلاک سپریم کورٹ؛ ماہ رنگ بلوچ سمیت 3 ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر نوٹسز جاری واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری لاہور: ریس کورس کے علاقے میں خواجہ سراؤں پر تشدد امریکا ایران تصادم شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا، چین فیفا ورلڈ کپ پہلا سیمی فائنل، اسپین نے فرانس کے خواب چکنا چور کر کے فائنل میں جگہ بنا لی کالعدم انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں کے عام شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے آگئے واشنگٹن: پاکستان اور ڈی ایف سی کے درمیان سرمایہ کاری و شراکت داری کے فروغ پر اتفاق پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4,722 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کردیا پاک فوج کا دیگر فورسز کے ہمراہ “آپریشن شعبان” جاری، مزید 3 دہشتگرد ہلاک سپریم کورٹ؛ ماہ رنگ بلوچ سمیت 3 ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر نوٹسز جاری واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری لاہور: ریس کورس کے علاقے میں خواجہ سراؤں پر تشدد امریکا ایران تصادم شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا، چین فیفا ورلڈ کپ پہلا سیمی فائنل، اسپین نے فرانس کے خواب چکنا چور کر کے فائنل میں جگہ بنا لی کالعدم انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں کے عام شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے آگئے واشنگٹن: پاکستان اور ڈی ایف سی کے درمیان سرمایہ کاری و شراکت داری کے فروغ پر اتفاق پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4,722 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کردیا
پاک فوج کا دیگر فورسز کے ہمراہ “آپریشن شعبان” جاری، مزید 3 دہشتگرد ہلاک سپریم کورٹ؛ ماہ رنگ بلوچ سمیت 3 ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر نوٹسز جاری واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری لاہور: ریس کورس کے علاقے میں خواجہ سراؤں پر تشدد امریکا ایران تصادم شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا، چین فیفا ورلڈ کپ پہلا سیمی فائنل، اسپین نے فرانس کے خواب چکنا چور کر کے فائنل میں جگہ بنا لی کالعدم انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں کے عام شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے آگئے واشنگٹن: پاکستان اور ڈی ایف سی کے درمیان سرمایہ کاری و شراکت داری کے فروغ پر اتفاق پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4,722 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کردیا پاک فوج کا دیگر فورسز کے ہمراہ “آپریشن شعبان” جاری، مزید 3 دہشتگرد ہلاک سپریم کورٹ؛ ماہ رنگ بلوچ سمیت 3 ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر نوٹسز جاری واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری لاہور: ریس کورس کے علاقے میں خواجہ سراؤں پر تشدد امریکا ایران تصادم شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا، چین فیفا ورلڈ کپ پہلا سیمی فائنل، اسپین نے فرانس کے خواب چکنا چور کر کے فائنل میں جگہ بنا لی کالعدم انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں کے عام شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے آگئے واشنگٹن: پاکستان اور ڈی ایف سی کے درمیان سرمایہ کاری و شراکت داری کے فروغ پر اتفاق پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4,722 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کردیا

ایران سے خاموش سوال

Link copied!

ثنا اللہ مجاہد

جنگ صرف بارود سے نہیں لڑی جاتی، بیانیے سے بھی لڑی جاتی ہے۔ جدید دور میں میزائل آسمان چیرتے ہیں، مگر ان سے زیادہ تیزی سے خبریں سفر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر جنگ دو محاذوں پر جاری ہوتی ہے؛ ایک میدانِ جنگ میں اور دوسری میڈیا کی اسکرین پر۔
گزشتہ برسوں میں جب بھی اسرائیل یا امریکہ نے ایران پر حملے کیے، دنیا نے ایک ہی منظر بار بار دیکھا۔ پہلے سرخیاں آئیں کہ فلاں فوجی مرکز، میزائل بیس، جوہری تنصیب یا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے فوراً بعد خبر آئی کہ جانی نقصان محدود رہا، یا حملے سے پہلے جگہ خالی کرا لی گئی تھی۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے؟
اگر درجنوں میزائل اور جدید ترین بم گرائے جائیں، دھماکوں کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوں، مگر ہر مرتبہ بتایا جائے کہ انسانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہے، تو ایک سنجیدہ صحافی کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے۔ کیا تمام اہداف پہلے ہی خالی کر دیے جاتے ہیں؟ کیا حملے صرف علامتی ہوتے ہیں؟ یا پھر جنگ کے دوران معلومات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جو ہر فریق کے مفاد کے مطابق ہو؟
تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں میں سب سے پہلے سچ زخمی ہوتا ہے۔ ہر ریاست اپنی عسکری کمزوریوں کو چھپاتی ہے، دشمن کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور اپنے نقصانات کو محدود دکھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لیے ابتدائی جنگی رپورٹس کو ہمیشہ احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔
لیکن اس سے بھی بڑا سوال ایران کے ردعمل پر اٹھتا ہے۔
ایران کئی مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جس ملک کی سرزمین سے امریکہ یا اس کے اتحادی کارروائی کریں، وہ بھی ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے قریب کارروائیاں یا میزائل حملوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری بیڑے موجود ہوں، اور بعض اوقات طیارہ بردار جہاز ایران کے جنوبی ساحل سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر بین الاقوامی پانیوں میں موجود ہوں، تو براہِ راست جواب وہاں کیوں نہیں دیا جاتا؟
کیا وجہ یہ ہے کہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر حملہ محدود کارروائی نہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ مکمل جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا؟ کیا ایران جانتا ہے کہ اس ایک قدم کے بعد ردعمل اس کی توقعات سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے؟ یا پھر خطے میں محدود جواب دے کر ایک ایسا توازن برقرار رکھا جاتا ہے جس میں پیغام بھی پہنچ جائے اور مکمل جنگ بھی نہ چھڑے؟
یہ سوالات صرف ایران سے نہیں، عالمی طاقتوں سے بھی ہیں۔
اگر امریکہ اور اسرائیل واقعی اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر حملے کر سکتے ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن مکمل طور پر ایک طرف جھک چکا ہے؟ اور اگر ایسا نہیں، تو پھر ایران کا جواب براہِ راست کے بجائے بالواسطہ کیوں نظر آتا ہے؟
ممکن ہے ان سوالوں کے کچھ جواب عسکری رازوں میں پوشیدہ ہوں، اور کچھ سفارتی مجبوریوں میں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جنگ کے اس نئے دور میں ہر دھماکہ صرف بارود کا نہیں ہوتا، ہر خاموشی بھی ایک پیغام ہوتی ہے، اور ہر غیر فائر کیا گیا میزائل بھی ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے۔
آج ضرورت نعروں کی نہیں، سوال اٹھانے کی ہے۔ کیونکہ جب سوال زندہ رہتے ہیں تو تحقیق آگے بڑھتی ہے، اور جب تحقیق آگے بڑھتی ہے تو تاریخ پروپیگنڈے کے بجائے حقائق کے قریب پہنچتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *