‎خوش آمدید سفیرِ حرمین ‎پاک سعودی دوستی کے نئے عہد کا آغاز ‎ دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم چند ہفتوں میں دانتوں کا اینامل دوبارہ اُگانے والا نیا جیل تیار جنوبی افریقا: ہزاروں افراد کی بیک وقت بار بی کیو کرنے کے ریکارڈ کی کوشش واٹس ایپ کا سالگرہ سے متعلق فیچر پر کام جاری ایشین گیمز 2026، بارش نے پاکستان کو کوارٹر فائنل کھیلے بغیر سیمی فائنل میں پہنچا دیا کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 افغان شہری گرفتار سیلاب آیا نہیں محکمہ آبپاشی سندھ نے 77 کروڑ روپے روکنے پر خرچ کر ڈالے بھارت، 600 سال پرانی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے مسجد میں ڈیرے ڈال لیے آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا ‎خوش آمدید سفیرِ حرمین ‎پاک سعودی دوستی کے نئے عہد کا آغاز ‎ دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم چند ہفتوں میں دانتوں کا اینامل دوبارہ اُگانے والا نیا جیل تیار جنوبی افریقا: ہزاروں افراد کی بیک وقت بار بی کیو کرنے کے ریکارڈ کی کوشش واٹس ایپ کا سالگرہ سے متعلق فیچر پر کام جاری ایشین گیمز 2026، بارش نے پاکستان کو کوارٹر فائنل کھیلے بغیر سیمی فائنل میں پہنچا دیا کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 افغان شہری گرفتار سیلاب آیا نہیں محکمہ آبپاشی سندھ نے 77 کروڑ روپے روکنے پر خرچ کر ڈالے بھارت، 600 سال پرانی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے مسجد میں ڈیرے ڈال لیے آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا
‎خوش آمدید سفیرِ حرمین ‎پاک سعودی دوستی کے نئے عہد کا آغاز ‎ دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم چند ہفتوں میں دانتوں کا اینامل دوبارہ اُگانے والا نیا جیل تیار جنوبی افریقا: ہزاروں افراد کی بیک وقت بار بی کیو کرنے کے ریکارڈ کی کوشش واٹس ایپ کا سالگرہ سے متعلق فیچر پر کام جاری ایشین گیمز 2026، بارش نے پاکستان کو کوارٹر فائنل کھیلے بغیر سیمی فائنل میں پہنچا دیا کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 افغان شہری گرفتار سیلاب آیا نہیں محکمہ آبپاشی سندھ نے 77 کروڑ روپے روکنے پر خرچ کر ڈالے بھارت، 600 سال پرانی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے مسجد میں ڈیرے ڈال لیے آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا ‎خوش آمدید سفیرِ حرمین ‎پاک سعودی دوستی کے نئے عہد کا آغاز ‎ دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم چند ہفتوں میں دانتوں کا اینامل دوبارہ اُگانے والا نیا جیل تیار جنوبی افریقا: ہزاروں افراد کی بیک وقت بار بی کیو کرنے کے ریکارڈ کی کوشش واٹس ایپ کا سالگرہ سے متعلق فیچر پر کام جاری ایشین گیمز 2026، بارش نے پاکستان کو کوارٹر فائنل کھیلے بغیر سیمی فائنل میں پہنچا دیا کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 افغان شہری گرفتار سیلاب آیا نہیں محکمہ آبپاشی سندھ نے 77 کروڑ روپے روکنے پر خرچ کر ڈالے بھارت، 600 سال پرانی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے مسجد میں ڈیرے ڈال لیے آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا

‎خوش آمدید سفیرِ حرمین ‎پاک سعودی دوستی کے نئے عہد کا آغاز ‎

Link copied!
‎تحریر: محمد ابرار ظہیر (گوجرانوالہ)

میجرجنرل (ر) ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی خادم الحرمین الشریفین کے نئے سفیر کی حیثیت سے پاکستان میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ ہم سفیر خادم الحرمین کی حیثیت سے ان کی پاکستان تشریف آوری پر انہیں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی محض ایک روایتی سفارت کار نہیں بلکہ عسکری اور سفارتی تجربے کا امتزاج رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ سعودی عسکری شعبے میں اعلیٰ ذمہ داریوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اسلام آباد میں سعودی عرب کے ملٹری اتاشی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بعد ازاں سعودی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہوئے اور سفیر کے منصب تک پہنچے۔ ان کا پاکستان سے پہلے کا تعلق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ اس ملک کے دفاعی اور عسکری ماحول سے پہلے ہی واقفیت رکھتے ہیں۔یہ تجربہ موجودہ حالات میں ان کے لیے یقینا ایک قیمتی اثاثہ ہے، کیونکہ آج پاک سعودی تعلقات محض روایتی سفارتی روابط کا نام نہیں رہے بلکہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، معاشی شراکت داری اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات تک پھیل چکے ہیں۔
‎اگرچہ وہ سعودی یوم الوطنی کی تقریبات سے دو دن بعد تشریف لائے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کی تقرری اور اس دن کی تقریبات کا سعودی ویژن 2030ء سے گہرا تعلق ہے۔
‎2017ء میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تقرری کے بعد سے، سعودی قومی دن کی تقریبات صرف عام عشائیوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ ویژن 2030ء، معاشی برینڈنگ اور سافٹ پاور کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ سعودی ویژن 2030ء کا تعلق صرف تجارت، ترقی اور روایتی سفارت کاری سے ہے، دفاع اس کا ایک اہم ستون ہے۔گزشتہ سال، پاکستان اور سعودی عرب نے 23 ستمبر کی قومی دن کی تقریبات سے محض چند دن پہلے 17ستمبر کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس ویژن کا مقصد سعودی عرب کو مہنگی غیر ملکی فوجی درآمدات سے آزاد کرنا ہے، تا کہ 2030ء تک ملکی سطح پر کم از کم 50فیصد دفاعی پیداوار حاصل کی جا سکے۔ اسی لئے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے، مملکت اپنے سفیروں کے طور پر فیلڈ کے ماہرین، کاروباری رہنماؤں اور ڈیل میکرز کو ایک کامیاب حکمت عملی کے تحت تعینات کرتی ہے۔ اگرچہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر البقمی کا فوجی پس منظر شاندار ہے، لیکن ایک سفیر کے طور پر ان کا بنیادی مقصد پاکستان میں دو طرفہ کاروبار کو بڑھانا اور عوامی سفارت کاری کے ذریعے اپنے ملک کے مثبت تشخص کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے کیریئر کو دیکھتے ہوئے یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ دفاعی تجزیہ کاروں کے بچھائے ہوئے جال سے بچنے اور آنے والے دنوں میں سفارتی تعلقات میں ایک تازہ اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔
‎مملکتِ سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاک سعودی تعلقات اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ان کا دورِ سفارت دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی، دینی، دفاعی، سیاسی، معاشی اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا۔
‎ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو صرف دو ملکوں کے باہمی تعلقات کہنا شاید اس رشتے کی حقیقی نوعیت کو پوری طرح بیان نہ کر سکے۔ یہ تعلق عقیدت، محبت، اخوت اور باہمی اعتماد کی ایسی بنیادوں پر قائم ہے جن کی جڑیں دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔ پاکستانی مسلمان مملکتِ سعودی عرب کو محض ایک برادر ملک نہیں سمجھتے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت اس سرزمین کو ان کے دینی جذبات میں ایک غیر معمولی مقام عطا کرتی ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت اور حفاظت کو پاکستانی قوم ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے بھی مشکل اوقات میں پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلق کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ سیاسی بحران ہو یا معاشی مشکل، قدرتی آفت ہو یا قومی سلامتی کا مسئلہ، سعودی قیادت اور عوام نے پاکستان کے ساتھ تعاون اور خیرسگالی کا مظاہرہ کیا ہے۔اسی لیے پاکستان میں سعودی سفیر صرف ایک سفارتی نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ لاکھوں پاکستانیوں کے جذبات سے بھی مخاطب ہوتا ہے۔ اور ہر سفیر خود پاکستان میں سعودی عرب کا سفیر اور سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیتا ہے۔
‎ پاک سعودی تعلقات کے موجودہ مرحلے میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔7 اگست 2026 ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے نے تینوں ممالک کے دفاعی تعاون کو ایک نئے ادارہ جاتی اور اسٹریٹجک دائرے میں داخل کیا۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔یہ معاہدہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے پاک سعودی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ اب یہ تعلق صرف دوطرفہ دوستی، معاشی تعاون یا روایتی دفاعی روابط تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ سلامتی اور اجتماعی دفاع کے وسیع تر تصور سے منسلک ہوچکا ہے۔ گزشتہ سال، پاکستان اور سعودی عرب نے 23 ستمبر کی قومی دن کی تقریبات سے چند دن پہلے 17ستمبر کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
‎امسال31 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری و سیاسی حکام نے مکہ معاہدے کے تحت قائم کیے گئے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی فورم کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے بعد ابھی ایک روز قبل یعنی 24 ستمبر کو الریاض میں تینوں ممالک کی فوجی قیادت نے ایک اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدہ کو ایک قبل عمل معاہدہ میں بدلنے کا عزم دہرایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ معاہدہ محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ اسے عملی اور ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش جاری ہے۔امیدکرتے ہیں کہ نئے سعودی سفیراس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مکہ معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے نئے امکانات کو پاکستان کے ساتھ مل کر آگے بڑھائیں گے۔آج یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب مشکل حالات سے گزر رہا ہے ،مملکتِ سعودی عرب کو ایک ایسے علاقائی ماحول کا سامنا ہے جو غیر معمولی پیچیدگی کا حامل ہے۔ یمن میں حوثی حملوں میں اضافہ، سعودی سرزمین اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات، بحیرہ احمر اور خلیجی راستوں کی سلامتی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سعودی عرب کی سلامتی کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ یہ صورت حال مکہ معاہدے کے لیے بھی ایک عملی امتحان بن رہی ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں واضح کیا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے عزم پر قائم ہے، تاہم سفارتی راستے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔خود سعودی عر ب کے جواں سال اور جواں فکر قائد محمد بن سلمان بھی فوجی کاروائی سے زیادہ سفارتی راستے کو ترجیح دے رہے ہیں ، گویا یہ پاکستان اور سعودی قیادت کا مشترکہ وژن ہے کہ خطے کو حتی الامکان جنگ سے بچایا جائے، یہ طرزِ عمل قابلِ فہم بھی ہے اور دانش مندانہ بھی۔ دفاعی عزم اپنی جگہ، لیکن ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل کو اہمیت دینا ہی زیادہ ضروری ہے۔ پاکستانی قوم کی خواہش بھی یہی ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین، اس کی خودمختاری، سلامتی اور خصوصاََ حرمین شریفین کا امن ہر صورت محفوظ رہے۔ اسی لئے تمام پاکستانی اس بات پر یک زبان ہیں کہ سعودی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں پاک افواج کو دفاعی معاہدے کے تحت سعودی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی چاہئے اور بالخصوص مکہ ومدینہ کی حفاظت کیلئے تو عام پاکستانی بھی جان لٹانے کے جذبات کا بارہا اظہار کر چکا ہے۔ شائد انہی ملی جذبات کی ترجمانی جناب وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کھلے لفظوں میں کی ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر ڈاکٹرحافظ عبد الکریم حفظہ اللہ مسلسل ببانگ دہل دو ٹوک انداز میں سعودی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ جناب امیر مرکزیہ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی افواج کے ذریعے سعودی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، اگر کسی تکنیکی وجوہات کی بناء پر ایسا ممکن نہیں تو ہمیں اجازت دیں ایک لاکھ نوجوان سرزمین حرمین کی حفاظت کیلئے بھیجنے کو تیار ہیں”۔امیر مرکزیہ کے یہ جذبات در اصل ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں کیونکہ سعودی عرب کے خلاف جب بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے تو پاکستان میں اس کے اثرات صرف سرکاری سطح تک محدود نہیں رہتے۔ عام پاکستانی کے دل میں سعودی عرب کے لیے جو محبت ہے، وہ اسے اس معاملے سے جذباتی طور پر وابستہ کردیتی ہے۔ یہ محبت کسی دوسرے ملک سے دشمنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ اخوت کے جذبے پر قائم ہے۔ پاکستانی قوم یہ سمجھتی ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی دراصل پورے عالمِ اسلام کے امن اور استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی ہر کوشش کے مقابلے میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی، یکجہتی اور امن کا پیغام سامنے آنا چاہیے۔ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت جذباتی نعروں سے زیادہ دانشمندانہ سفارت کاری، باہمی اعتماد اور مسلم ممالک کے باہمی تعاون کی ہے۔ ان حالات میں ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کے سامنے پاکستان میں کئی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری تو پاک سعودی سیاسی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشی تعلقات کو نئی وسعت دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سعودی عرب ”وژن 2030ء” کے تحت معیشت کو نئے خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان، باصلاحیت اور محنتی افرادی قوت، زرعی صلاحیت، آئی ٹی کے شعبے میں امکانات اور متعدد صنعتی و تجارتی مواقع موجود ہیں۔ دونوں ملک ان شعبوں میں ایک دوسرے کے لیے اہم شراکت دار بن سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے امکانات، پاکستانی افرادی قوت کے لیے سعودی مارکیٹ، تعلیم و تحقیق، ٹیکنالوجی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ایک تجربہ کار سفارت کار کی حیثیت سے نئے سفیر ان تمام امکانات کو عملی شکل دینے میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔کیونکہ پاک سعودی تعلقات کی سب سے خوبصورت خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف حکمرانوں یا حکومتوں کے درمیان تعلق نہیں۔ اس رشتے میں دونوں ملکوں کے عوام کی محبت شامل ہے۔ پاکستانی حجاج جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچتے ہیں تو وہ خود کو اجنبی سرزمین میں محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی محنت کش اور پیشہ ور افراد دونوں ممالک کے درمیان انسانی رابطے کا عملی نمونہ ہیں۔ یہ عوامی رابطہ پاک سعودی تعلقات کا سب سے مضبوط ستون ہے اور نئے سعودی سفیر کو اس ستون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
‎ ہم ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کا دورِ سفارت پاک سعودی تعلقات کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے دور میں”پاک سعودی دفاعی تعاون مزید مضبوط ہو، مکہ معاہدے کے مقاصد کو مؤثر ادارہ جاتی شکل ملے، دونوں ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی روابط میں اضافہ ہو،سعودی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں،پاکستانی افرادی قوت کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں،اور دونوں برادر ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور اعتماد مزید گہرا ہو”۔موجودہ علاقائی حالات میں سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت ہے اور پاکستان بھی سعودی عرب کو اپنا ایک اہم ترین برادر اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔ یہ تعلق باہمی مفاد کے ساتھ ساتھ باہمی اعتماد اور اخوت کا رشتہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ نئے سعودی سفیر اپنے تجربے، بصیرت اور پاکستان سے سابقہ واقفیت کی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
‎ ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی! پاکستان کی سرزمین پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ یہ وہ ملک ہے جس کے عوام سعودی عرب کے لیے محبت کو محض سفارتی زبان میں نہیں بلکہ اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو امن، استحکام، ترقی اور خوش حالی عطا فرمائے، حرمین شریفین کو ہمیشہ امن و سکون کا مرکز بنائے، پاک سعودی دوستی کو مزید مضبوط کرے اور دونوں برادر ممالک کو عالمِ اسلام کے امن، اتحاد اور استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاک سعودی دوستی زندہ باد! مملکتِ سعودی عرب پائندہ باد!پاکستان سعودی برادرانہ تعلقات ہمیشہ قائم و دائم رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *