جمعرات‬‮   23   مئی‬‮   2024
 
 

مسلمانوں کو بے گھر کرنے کی مہم

       
مناظر: 280 | 4 Jan 2023  

تحریر : شبیر حسین امام 

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار کرنے کاسلسلہ اب مقبوضہ وادی تک پھیل گیا ہے اور یہاں کسی پر بھی ملک دشمن کا لیبل لگا کر گھر مسمار کردیا جاتا ہے۔بھارت میں عموماً مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے ماراوئے عدالت اقدام ہوتے رہے ہیں، جہاں ان کے گھروں کو متعدد بار مسمار کیا جا چکا ہے۔ تاہم کشمیر میں یہ ایک نیا رجحان ہے۔ کچھ روز قبل ہی جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں بھی ایک مبینہ حریت پسند کمانڈر عاشق نینگرو کے مکان کو بلڈوزر سے تباہ کر دیا تھا۔ یہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ ایک طرح کا یہ ایک نیا سلوک ہے۔ کشمیر میں تصادم کے دوران ان کے گھروں کو جلانے اور منہدم کرنے کا چلن پرانا ہے، تاہم اب بلڈوزر سے ان کے مکانوں کو نشانہ بنانے کا ایک نیا رجحان شروع ہوا ہے۔بھارت میں، جہاں بھی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے، وہاں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کا استعمال اب ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے، جس پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے تاہم اس کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس کی ابتدا یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے چند برس قبل اس وقت کی تھی جب شہریت سے متعلق مودی حکومت کے متنازعہ قانون کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج شروع کیا تھا۔ اس وقت متعدد مسلم کارکنان کے مکانوں کو بلڈوزر سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ گزشتہ برس بھی جب کئی ریاستوں میں ہندو مسلم فسادات بھڑک اٹھے تھے تو دہلی اور ریاست مدھیہ پردیش سمیت کئی مقامات پر مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق عدالتی نظام کے بغیر یونہی کسی کو اس طرح کی سزا دینا جمہوری نظام کے منافی ہے۔ یوں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہبی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستوں میں ہزاروں مسلم کنبوں کے بے گھر ہو جانے کا خطرہ شدید ہو گیا ہے۔ یہ افراد وہ دہائیوں سے ان گھروں میں آباد ہیں۔بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں اتراکھنڈ، آسام اور مدھیہ پردیش میں ہزاروں مسلم کنبوں کے بے گھر کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔اتراکھنڈ میں نینی تال ضلع کے ہلدوانی قصبہ میں ہزاروں کنبوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے۔ کیونکہ مقامی انتظامیہ نے 4365 مکانات کو منہدم کرنے کا نوٹس دے دیا ہے جس پر 9 جنوری سے کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔جس علاقے کو منہدم کیا جانا ہے وہاں ایک لاکھ سے زائد افراد رہتے ہیں۔ ان میں 95 فیصد مسلمان ہیں اور یہ لوگ تقریبا ً80 برس سے یہاں آباد ہیں۔ یہاں تقریبا 20 مساجد، کمیونٹی سینٹراور متعدد سکول بھی ہیں۔عدالت کے فیصلے کے خلاف گزشتہ ہفتے ہلدوانی میں زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ ہزاروں مرد و خواتین سڑکوں پر اتر آئے تھے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہاں رہنے والے لوگوں کے پاس وہ تمام سرکاری دستاویزات موجود ہیں جو حکومت جاری کرتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ لوگ کانگریس کے امیدوار کو کامیاب بناتے رہے ہیں اس لیے شاید انہیں اسی کی سزا دی جارہی ہے۔بی جے پی کی حکومت والی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی5000 مکانات منہدم کئے جارہے ہیں ان میں سے بیشتر مکانات مسلمانوں کے ہیں۔مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی2021 سے اب تک آسام میں 4000 سے زائد افراد کو ان کے مکانات سے بے دخل کیا جاچکا ہے۔مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے اجین شہر کے مسلمانوں کے گلمہر کالونی کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 2028 میں اجین میں ہندووں کا کمبھ میلہ لگے گا اور اس میں آنے والوں کے لیے گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ کی ضرورت ہے۔ اور اسی جگہ پر پارکنگ بنائی جائے گی۔ یوں مسلمانوں کو ایک منظم کوشش کے تحت بے گھر کیا جارہا ہے، اس عمل پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے تنقید بھی کی گئی ہے تاہم بی جے پی کی مودی سرکار اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیراہے۔