جمعرات‬‮   23   مئی‬‮   2024
 
 

نئی دلی :بھارتی پولیس کا کسانوں کو مارچ سے روکنے کیلئے آنسوگیس کا پھربے دریغ استعمال

       
مناظر: 533 | 14 Feb 2024  

 

ممبئی (نیوز ڈیسک ) بھارت میں ہزاروں کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب-ہریانہ سرحد پر آج دوسرے دن دارلحکومت نئی دلی کی طرف مارچ شروع کیا تاہم بھارتی پولیس نے احتجاج کرنے والے کسانوں پر آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا ہے ۔ اس دوران کسانوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب ہریانہ سرحد پر شمبھو کے مقام پرکسانوں کی سینکڑوں ٹریکٹر ٹرالیاں قطار میں کھڑی ہیں ۔کسانوں کی بڑی تعداد نے آج بھارتی فورسز کی بڑی تعداد میں تعیناتی، رکاوٹوں اوردیگر مشکلات کے باوجود نئی دلی کی طرف اپنا مارچ جاری رکھا۔بھارتی پولیس اہلکاروں نے آج دوسرے روز بھی مظاہرین کو رکاوٹیں ہٹاکر آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے ان پر آنسو گیس کی شدیدشیلنگ کی۔نئی دلی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایکسپریس وے کی بندش، رکاوٹوں اور دیگر سخت پابندیوںکی وجہ سے آج مسلسل دوسرے دن بھی نظام زندگی مفلوج ہے ۔ جیسے جیسے کسانوں کا مارچ دارالحکومت نئی دلی کے قریب پہنچ رہا ہے پولیس نے سرحدوں پر حفاظتی اقدامات اور پابندیاں مزید سخت کردی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیاہے۔ہریانہ میں حکام نے امبالہ، کروکشیتر، کیتھل، جند، حصار، فتح آباد اور سرسا اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس اور ڈونگل سروسز کی معطلی کو مزید 48گھنٹے کی توسیع کردی ہے۔ غازی پورسرحد پر رکاوٹوں اور سخت حفاظتی انتظامات کی وجہس سے گاڑیوں اور لوگوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔بی جے پی حکومت کے ساتھ بے نتیجہ مذکرات کے بعد سمیوکت کسان مورچہ اور کسان مزدور مورچہ تنظیموں کے قائدین ‘دہلی چلو’ مارچ کی قیادتکر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات میں فصلوں کی امدادی قیمت کی قانونی ضمانت اور کسانوں کے قرضوںشامل ہے۔