ہفتہ‬‮   18   مئی‬‮   2024
 
 

منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کا جیلوں میں قتل عام ، کشمیری رہنمائوں کا اظہار تشویش

       
مناظر: 323 | 18 Jan 2023  

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربندحریت پسند کشمیریوں کی حالت ِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت نے حریت پسند کشمیری عوام کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور ظالمانہ اقدامات کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ کے جنرل سیکریٹری شیخ عبدلمتین نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ہزاروں حریت پسند کشمیریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور ان کی نظربندی کوایک منصوبہ بند طریقے سے طول دے کر انہیں موت کے منہ میں دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہید محمد اشرف صحرائی اورشہید محمد الطاف شاہ کی شہادت اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محمد اشرف صحرائی ڈسٹرکٹ جیل ادھمپور اورمحمد الطاف شاہ تہار جیل میں مسلسل قید و بند کی وجہ سے مختلف امراض کا شکار ہوگئے تھے اور بالآخر وہ ا للہ کو پیارے ہوگئے۔ شیخ متین نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے ہمراہ جو دیگر رہنما تہار جیل میں نظر بند ہیں ان میں شبیر احمد شاہ ،محمدیاسین ملک، نعیم احمد خان، ایڈوکیٹ غلام محمد بٹ آسیہ اندرابی، ا یاز اکبر، شاہدالاسلام،پیر سیف اللہ، مولوی بشیر احمد، معراج الدین کلوال،فاروق احمد ڈار، ناہیدہ نصرین، فہمیدہ صوفی اور ظہور احمد وٹالی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر قاسم فکتو،غلام قادر بٹ،نذیر احمد شیخ،محمد ایوب میر،محمد ایوب ڈار،محمود ٹوپی والا،جاوید احمد خان، فیروز احمد ڈار،فہداللہ خان،عبدالحمید تیلی،فیروز احمد بٹ، پرویز احمد میر،واحد احمد نائیکو،محمد عباس وانی،فاروق احمد شیخ،طارق احمد متو، غلام محمد بٹ، عبدالرشید بابا،بشیر احمد بٹ،شریف الدین گجر،شوکت احمد خان،خالد احمد پہلوان،محمد امین ڈار،جاوید احمد خان،مقصود احمد بٹ،مظفر احمد راتھر،پیر محمد اشرف، مشتاق الاسلام ، محمد یوسف میر، شوکت احمد حکیم،معراج الدین نندہ،محمد رفیق گنائی،حیات احمد بٹ اور مولوی سجاد احمد بھی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں جن میں سے کئی کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔شیخ متین نے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے جموں کشمیر میں تعینات لاکھوں فورسز کو حریت پسند کشمیری عوام پر مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے حریت پسندقائدین و کارکنوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے باربار یہ بات اقوام عالم پر واضح کردی ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا کوئی جائز حصہ نہیں بلکہ بھارت نے فوجی طاقت کے بل پراس پر قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجودہے۔انہوں نے کہا اقوام متحدہ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں پیش آنے والے تمام واقعات کا سنجیدہ نوٹس لے اوربھارت کو جموں و کشمیر میںظالمانہ کاروائیوں سے روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔