اتوار‬‮   19   مئی‬‮   2024
 
 

انسانی حقوق کا عالمی دن اور کشمیر کے بے نوا مسلمان

       
مناظر: 610 | 10 Dec 2022  

تحریر:عبدالواجد خان

ا نسانی حقوق کا عالمی منشور 10دسمبر 1948کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا جسے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائیٹس کہا جاتا ہے۔10دسمبر کو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے تقریبات،سیمینار،واکس اور مذاکروں کا انتظام کیا جاتا ہے جس میں انسانی حقوق کے حوالے سے عوام کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جن ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں ان کی مذمت بھی کی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10دسمبر1948کو اپنی قرارداد 317میں انسانی حقوق کے عالمی ڈکلریشن کی منظوری دی اور پہلی بار 10دسمبر1950کو یہ دن پوری دنیا میں منایاگیا۔عالمی ادارے کی طرف سے ا نسانی حقوق کو اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ تمام افراد اور اقوام کے لیے ایک جیسا معیار قائم کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر ایک ابتدائیہ اور 30آرٹیکلز پرمشتمل ہے جس میں آزادی اظہار،کسی جگہ جمع ہونے،آمدورفت اور مذہبی آزادی کااحاطہ کیاگیا ہے اس میں مساوات اور غیرامتیازی حیثیت کی صراحت کردی گئی ہے تاکہ شہری انسانی حقوق سے مستفید ہوسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ضمانت دی گئی ہے کہ ہرکوئی غلامی،تشدد، بے جانظر بندی اور حراست سے آزاد ہوگامگر افسوس اس منشور کو نافذ کرنے والے اور اسے منانے والے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر ایسے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جیسے کشمیر میں کچھ ہوا ہی نہیں۔سب جانتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی کشمیریوں کے مظالم بڑھے۔انسانی حقوق کاجب منشور بنا اس سے دو ایک سال قبل 1947میں نومبر کے پہلے ہفتے میں 6لاکھ کشمیریوں کاجموں میں قتل عام ہوا۔صرف یہی نہیں خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کے مال واسباب کو لوٹا گیا ان کی جائیدادیں قرق کی گئیں اور اس کے بعد ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ جموں وکشمیر کے مسلمان ڈوگرہ کے مظالم بھول گئے جس نے کشمیریوں پر بے جاٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی آزادی ان کی سماجی سیاسی سرگرمیوں پر روک لگا رکھی تھی مگر افسوس ہندوستان میں جب27اکتوبر 1947میں مقبوضہ کشمیرمیں فوج داخل کی اس وقت اقوام متحدہ خاموش تماشائی رہا۔1950میں جب پوری دنیا میں یہ منایاگیا تب بھی کشمیریوں کے ساتھ کسی نے یکجہتی نہیں کی۔مظالم کا یہ سلسلہ جاری رہا اور 1980کی دہائی میں ایک بار پھر کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم وبربریت کا نیا طوفان برپا کیا اور یہ سلسلہ 2022تک جاری ہے۔صرف ان 30سالوں میں دو لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے گئے جبکہ لاکھوں کو معذور اور زخمی کیاگیا۔ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں،ہزاروں بچے یتیم کیے گئے۔سب سے زیادہ ظلم 5اگست2019کو ہوا جب بھارت نے تمام عالمی قوانین بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی ہندوستانی آئین میں موجود دو دفعات 370اور 35اے کو حذف کر کے اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیاصرف یہی نہیں پوری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کانفاذ کیاگیا ہے۔12سو دن گزر گئے مگرکرفیو آج بھی جاری ہے۔لاک ڈاؤن کاسلسلہ آج بھی جاری ہے لوگوں کا کاوربار تباہ ہوگیا ان کو معاشی طور پر دست و پا ہ کردیاگیا ہے مگر کشمیریوں کے جذبہ حریت کو وہ سرد نہیں کرسکے جتنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیر میں کی گئیں شاید ہی دنیا میں اس کی کوئی مثال ملتی ہو۔جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ہیں جہاں بھارتی فورسسز نے 75سال سے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کو یرغمال بنارکھا ہے اور ان کی حالت زار سے اقوام متحدہ بخوبی واقف ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اعداد وشمار کے مطا بق کل آبادی کا38فیصد بچوں پرمشتمل ہے اور اس میں تین فیصد یتیم ہیں اگر یہ اعداد وشمار درست تسلیم کرلیے جائیں تو اس کامطلب یہ ہے کہ کشمیر میں بچوں کی تعداد 20لاکھ سے زائد اور یتماء کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد بنتی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کس قدرمظالم ڈھائے گئے۔اتنی بڑی یتیم بچوں کی تعداد شاید ہی کسی خطے میں ہو مگر کسی آزاد ذرائع سے اگرسروے کروایا جائے تو یتیم بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ جہاں کل آبادی کاتین فیصد یتیم بچوں پرہو تو بیوگان کی تعداد کتنی ہوگی۔ انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ موت بھی فطری عمل ہے اور یہ ہرملک اور خطے میں موت اور پیدائش یکساں چل رہی ہے مگرکسی جگہ ایسا نہیں دیکھا گیا کہ شرح اموات اس قدرزیادہ ہو جائے۔مقبوضہ کشمیر میں طبعی اموات بہت کم ہیں اور زیادہ تر اموات بھارتی مظالم کا نشانہ بننے والوں کی ہی ہے۔بھارتی مظالم کااگرصرف دو عشروں کا ہی جائزہ لیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔بھارتی فورسسز نے تحریک آزادی کو د بانے کے لئے کشمیریوں کی نسل کشی کی،جنگی حربوں کے طورپر غیرقانونی حراست،اغواہ، گھروں کے محاصرے، کرفیوکانفاذ،نہتے اور بے گناہ مسلمانوں پر فائرنگ، پیلٹ گنوں کااستعمال، جعلی پولیس مقابلے اور اس کے بعد ان کی اجتماعی قبریں بنانا،مساجد،مکانات اور دوکانوں کی مسماری،خواتین کاریپ،قتل،تشدد اور مارپیٹ کاسلسلہ ہنوذ جاری ہے مگردنیا کے بڑے بڑے اصول پسند اور بڑے بڑے عالمی امن وانسانی حقوق کے چیمین صرف بھارتی سے معاشی اور اقتصادی تعلقات کی وجہ سے خاموش ہیں یہی حال فلسطین کے مسلمانوں کاہے جن پر اسرائیل نے قہر نازل کررکھا ہے مگر امریکا اور اس کے حواری اس پر زبان نہیں کھولتے۔مقبوضہ کشمیر کی بات کی جائے تو بھارتی فورسسز نے صرف 2000کے بعد ا ب تک 25ہزار کشمیری نوجوانوں کو گھروں اور ان کو کام کی جگہ سے اغواہ کی اور انہیں شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفن کیا جن کی نشاندہی بارہ مولہ،بانڈی پورہ اور ہندواڑہ میں ایک مقامی نتظیم نے کی۔کئی قبروں میں اس قدر بے دریغ لاشوں کودبایاگیا کہ وہ بری طرح مسخ ہوچکی تھیں اور ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ان دو عشروں میں خواتین سمیت بچوں،بزرگوں جن کی کل تعداد 1لاکھ سے زائد بنتی ہے بھارتی مظالم کا نشانہ بنے۔10ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی اور ان میں عام سپاہی سے لے کر لیفٹینٹ جنرل اور میجر جنرل تک فوجی ان جرائم میں شامل ہیں۔ ان میں کنن پوش پورہ میں راشٹریہ رائفل کے جانوروں کی وہ جنسی درندگی بھی شامل ہے، جس میں ایک رات میں اس بد قسمت گاؤں کی13سے50سال کی 100عورتوں کوجنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان دو عشروں میں ایک لاکھ سات ہزار بچے یتیم ہوئے،جن کے سروں پر دست شفقت رکھنے والوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے بھارتی تسلط کو تسلیم کرنے سے انکار کیا،تاکہ وہ آنے والی نسلوں کو ایک خودمختار اور آزاد مْلک دے سکیں۔ صرف یہ بچے ہی یتیم نہیں ہوئے،بلکہ ان کی 22ہزار 764 مائیں بھی بیوہ ہوئیں، جن کے سہاگ آزادی کے لئے خاک و خون ہوئے۔صرف ایک عشرے میں 9 ہزار کشمیری مسلمان بھارتی فورسز کی حراست میں تشدد سے جان کی بازی ہار گئے، آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے میں دنیا کے تمام ہیومن رائٹس کے اداروں اور ذمہ داران کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ خدارا کشمیریوں کی حالت زار پر توجہ دیں آج اگر وہ گولی، تشدد اور زیادتیوں کا شکار ہیں اور عالمی ضمیر سویا ہے تو کل انکو بھی مکافات عمل سے گزرنا ہوگا بھارت سری نگر جو ایک متنازعہ ریاست کی وادی ہے جی20 کا اجلاس منعقد کرنے جارہا ہے اول تو یہ فیصلہ انتہائی غلط ہے پہلے بھارت سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی باز پرس کی جائے دوم یہ کہ اگر اجلاس ہونا ہی ہے تو جی 20 کے رکن ممالک کے ذمہ داران آزادانہ طور پر سری نگر، جموں اور لداخ کا وزٹ کریں لوگوں کے گھر جائیں شہدا کے مزارات کا وزٹ کریں تاکہ بھارت کے جھوٹ کا پول دنیا کے سامنے کھل سکے۔