بدھ‬‮   19   جون‬‮   2024
 
 

مقبوضہ کشمیر صحافیوں کیلئے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل: رپورٹ میں انکشاف

       
مناظر: 572 | 4 May 2023  

 

سرینگر (نیوز ڈیسک )غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل ہے جہاں صحافت اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد مشکل ترین حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
آج آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پرکشمیرمیڈیاسروس کے ایڈیٹر رئیس احمد میر کی طرف سے مرتب کردہ ایک رپورٹ میں 1989سے اب تک جاری جدوجہد آزادی کشمیر میں اپنے پیشہ فرائض انجام دہی کے دوران20صحافیوں کے قتل کی تصدیق کی گئی ہے ۔قتل کئے جانیوالے صحافیوں میں شبیر احمد ڈار، مشتاق علی، محمد شعبان وکیل، خاتون صحاف آسیہ جیلانی، غلام محمد لون، غلام رسول آزاد، پرویز محمد سلطان، شجاعت بخاری، علی محمد مہاجن، سید غلام نبی، الطاف احمد فکتو، سیدن شفیع، طارق احمد، عبدالمجید بٹ، جاوید احمد میر، پی این ہنڈو، محمد شفیع، پردیپ بھاٹیہ، اشوک سودھی اور رئیس احمد بٹ شامل ہیں۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکاروں کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنا، اغوا، قاتلانہ حملے ، گرفتاریاں،پولیس اسٹیشنوں میں طلبی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ بھارتی پولیس اور بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے اہلکاروں نے مقبوضہ علاقے میں آزادی کے حق میں مظاہروں کے دوران بھارتی فوجیوں کے ظلم و بربریت کو اجاگر کرنے پرفوٹو جرنلسٹ کامران یوسف کو 4 مارچ 2017کو، عاقب جاوید حکیم کو 2جولائی 2019کو ، خالد گل کو گزشتہ سال6 دسمبرکو اور منان گلزار ڈار کو 10 اکتوبر 2021 کو گرفتار کیا تھا۔انہیں بعد ازاں طویل نظربندی کے بعد رہاکیاگیا۔ 8 اگست 2019 کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کئے گئے ایک اور صحافی قاضی شبلی کو23 اپریل 2020کو رہا کیا گیا۔کشمیری صحافی آصف سلطان ، فہد شاہ ، سجاد گل ، سرتاج الطاف بٹ اور عرفان معراج اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بندہیں۔قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں کو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی خصوصا مقبوضہ علاقے کی زمینی صورتحال سے متعلق خبریں اوربھارتی فوجیوں کی طرف سے تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹیں منظر عام پر لانے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ ایک فری لانس فرانسیسی صحافی کومیٹی پال ایڈورڈ کو بھارتی پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھاجب وہ 10 دسمبر2017کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سرینگر میں پیلٹ گن کے متاثرین کی تصاویر بنا رہے تھے۔ کومیٹی پال ایڈورڈ نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیریوں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بدترین قسم کے فوجی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے اور بھارت نہیں چاہتا کہ کشمیر میں ہونیوالے مظالم دنیا کے سامنے آئیں۔ انہوں نے 2018میں ریلیز کی گئی اپنی دستاویزی فلم میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو بے نقاب کیاتھا۔بھارت میں واشنگٹن پوسٹ کی بیورو چیف اینی گوون کو قابض حکام نے 31جولائی 2018کو سرینگر کے ایک گھر میں نظربند کر دیا تھا اور انھیں رپورٹنگ کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ پلٹزر انعام یافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متوکو گزشتہ سال 2جولائی کو بھارتی امیگریشن حکام نے نئی دلی کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے پیرس جارہی تھیںاور اکتوبر میں دوبارہ ثنا ارشادکو ایک بار پھر نئی دلی ائیر پورٹ نیویارک جانے سے روک دیاگیا وہ 2022کا پلٹزر انعام حاصل کرنے کیلئے نیویارک جارہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق فری لانس صحافی آکاش حسن واس کو نئی دلی ائیر پورٹ کے امیگریشن حکام نے 26 جولائی 2022 کو بغیر کسی وجہ کے کولمبو جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیاتھا۔اگرچہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی صحافت کے حق سمیت کشمیریوں سے انکا ہر حق چھین لیا ہے تاہم کشمیری آزادی صحافت پر بھارت کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مقامی صحافتی تنظیموں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ 5اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کالے قانون کے تحت کشمیری صحافی عرفان معراج کی گرفتاری مقبوضہ علاقے میںانسانی حقوق کے طویل عرصے سے جاری خلاف ورزیوں اور میڈیا پر قدغن اور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈائون کی ایک اور مثال ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکر پٹیل نے کہاہے کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر استثنیٰ کو ختم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جسے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں نے بہادری کے ساتھ بے نقاب کیا ہے اور دستاویزی شکل دی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 29 Feb 2024
Total Killings 96,290
Custodial killings 7,327
Civilian arrested 169,429
Structures Arsoned/Destroyed 110,510
Women Widowed 22,973
Children Orphaned 1,07,955
Women gang-raped / Molested 11,263

Feb 2024
Total Killings 0
Custodial killings 0
Civilian arrested 317
Structures Arsoned/Destroyed 0
Women Widowed 0
Children Orphaned 0
Women gang-raped / Molested 0