ہفتہ‬‮   18   مئی‬‮   2024
 
 

کشمیر پالیسی پر ہر معاملے میں ہر سطح پر بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے ، قمر زمان کائرہ

       
مناظر: 628 | 17 Feb 2023  

 

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتوں کی کشمیر پر پالیسی واضح ہے جو اس سے ہٹنے کی کوشش کرے گا وہ ماضی کی طرح تاریخ میں عبرت کا نشان بنے گا، کشمیر پالیسی پر کوئی تبدیلی نہیں آئی، ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تنازعہ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے ساتھ موثر انداز میں لڑ سکتا ہے، جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر پاکستان شاخ کے جنرل سیکریٹری شیخ عبدالمتین نے کہاکہ پاکستان میں حکومتوں کے بدلنے سے کشمیر پالیسی متاثر نہیں ہونی چاہیے ، کشمیر پر ایک مضبوط پالیسی کا تسلسل جاری رہنا چاہیے، عالمی برادری کشمیری قیادت کے خلاف بھارت کی عدالتی دہشت گردی کا نوٹس لے۔
اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے تحقیق و مکالمہ اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے تناظر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کی صدارت وائس پریذیڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر نبی بخش جمالی نے کی، وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ مہمان خصوصی تھے، جبکہ سیمینار سے سابق ترجمان دفتر خارجہ و سفیر ڈاکٹر عبدالباسط، کشمیر چیئر کے سربراہ بریگیڈیئر(ر) محمد خان، حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر پاکستان شاخ کے جنرل سیکریٹری شیخ عبدالمتین ، یوتھ فار کشمیر (وائی ایف )کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زمان باجوہ، انچارج شعبہ اردو اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر کامران کاظمی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر قمر زمان کائرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کے تنازعہ سے آگاہی کے لئے نوجوان نسل کے لئے یہ سیمینار منعقد کرنا قابل تعریف ہے،ہم نے 5 فروری کو یہی حکمت عملی اپنائی کہ نہ صرف بیرونی دنیا بلکہ اپنی نوجوان نسل کو بھی آگاہ کرنا ہے،وقت گزرتے ساتھ نوجوان نسل کا کشمیر سے تعلق کمزور ہوا ہے،ہم جامعات تک یہ کیس لے کرجارہے ہیں اس لئے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر دنیا میں پاکستان کا مقدمہ ہے اور ہم اس کو اٹھا رہے ہیں، کشمیر کا مقدمہ ہم سے زیادہ کشمیری حریت پسندوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر لڑا ہے،وہاں پر اپنی عصمت کی قربانی دی ہے،دنیا میں آزادی کی تحریکوں میں کبھی جلد منزل ملتی ہے اور کبھی صدیاں لگتی ہیں اسی لئے ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لئے 100 سال تک جدوجہد کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی سیاسی یا جمہوری حکومتیں آئیں ہر ایک نے اس مسئلہ کو اجاگر کیا ہے،جمہوری حکومتوں کے دوران کبھی کشمیر پر کوئی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، کشمیریوں کی اپنی آزادی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گے، انہوں نے کہاکہ ہماری جماعت کی بنیاد میں ایک شق کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق تھا اسی طرح باقی جماعتیں بھی منسلک ہیں،کشمیر پر بیک ڈور سفارتکاری کسی جمہوری دور میں نہیں ہوئی،کشمیریوں نے مسئلہ کو فلیش پوائنٹ بنارکھا ہے،بھارت اپنے تمام ہتھیار تیزی سے استعمال کررہا ہے اور پاکستان اس کاتدارک کررہا ہے ، بھارت نے کشمیر میں ڈیموگرافی تبدیل،اس کی خصوصی حیثیت تبدیل کی،اس پر جمہوری حکومت نے بھرپور موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں ہم نے اس معاملہ پر خاموش رہنے کی اپیل کی لیکن من موہن سنگھ کے کانفرنس میں جانے پر ہی بھارت میں مظاہرے ہوئے اسے گالیاں دی گئیں،
کائرہ نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہندوستان اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنا مقدمہ موثر انداز میں لڑ سکے گا،بھارت اگر کشمیر کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتا تو ہم بھی اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ تحریکوں میں تشدد تحریکوں کے لئے بہتر نہیں ہوتا،کشمیر میں بھی آزادی کی تحریک کے لئے ہتھیاراٹھانے کی پالیسی درست ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی وہ درست نہیں،اس وقت دنیا میں آزادی کی مسلح جدوجہد ہورہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں بندوق کے زور پر حکومت کو تسلیم کریں گے تو پھر ایسے لوگ یہاں بھی سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی میں بڑے لوگ بھی سربراہ رہے ،اس وقت بھی جو چئیرمین ہیں وہ عوام کے منتخب کردہ ہیں،ہم سب مل کر اس میں بہتری لاسکتے ہیں ،پاکستان کا ایک ایک بچہ اس مقدمہ کے ساتھ ہے ہم اس کو اندرون ملک بھی اجاگر کریں گے،وزیر اعظم نے خود اس پر عملی اقدامات اٹھائے،قومی میڈیا پر کشمیر سیل کو فعال کیا جارہا ہے۔انہوں نے طالب علموں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر کشمیر کے تنازعہ کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،آزاد کشمیر میں ہماری مخالف حکومت ہے اسے مستحکم رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ اسے سیاست کی نذر نہ کریں،ماضی میں وہاں کیا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں تبدیلی ہونی چاہئے،وہاں پر مہاجرین کے لئے 12 نشستیں علامتی طور پر پار کے کشمیریوں کے لئے مختص کی گئی ہیں،اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ استصواب ایڈوائزر ہونا چاہئے لیکن اس کا تقرر اقوام متحدہ نے کرنا ہے ،پاکستان یا بھارت اپنے طورپر نہیں کرسکتے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان کی تمام جماعتوں کی کشمیر پر پالیسی واضح ہے جو اس سے ہٹنے کی کوشش کرے گا وہ ماضی کی طرح تاریخ میں عبرت کا نشان بنے گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں عالمی ضمیر یا اصول نام کی کوئی چیز نہیں ہے،دنیا میں لوگ اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،مسلم ممالک بھی بدقسمتی سے ہمارا موقف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے،ہمیں اپنے ملک کو استحکام دینا ہے ،انہوں نے کہاکہ بھارت میں غیرقانونی اقدامات پر کوئی حکومت خاموش نہیں رہی،وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کے کسی بیرونی دورے میں کشمیر کا مسئلہ نظر انداز نہیں کیا گیا،بھارت ہم سے بڑی طاقت ہے لیکن ہم اس سے مرعوب نہیں ہیں،ہمیں اپنے بیانیہ کو درست کرنا چاہئے،ماضی میں جو کشمیر پالیسی میں تبدیلی آئی ہے یا جو فارمولے دیئے ایسا نہیں ہونا چاہئے،انہوں نے کہاکہ نجی میڈیا بھی قومی میڈیا کی طرح کشمیر کا مسئلہ،زبان،تقافت کو اجاگر کرے تاکہ اپنے آنے والی نسلوں میں اس مسئلہ کو سرد نہ ہونے دیں،انشااللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا،بھارت نے دنیا اور اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ اپنی قوم سے بھی اس مسئلہ کے حل کے لئے وعدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے دنیا کے سامنے ہے،یہ کوئی علاقائی یا مذہبی نہیں انسانی مسئلہ ہے۔بھارت اس جدوجہد کو دبانے کے لئے ہر حربہ اختیار کررہا ہے اور ہم اس کا تدارک کررہے ہیں،دنیا طاقتوروں کی بات سنتی ہے،پاکستانی دنیا کے ہر مسلمان کا مقدمہ اپنا مسئلہ سمجھ کر لڑتے ہیں لیکن دوسرے مسلمان ملک اس پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے،ہم کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے ،کشمیری اپنا مقدمہ خود لڑلیں گے
اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر پاکستان شاخ کے جنرل سیکریٹری شیخ عبدالمتین نے کہاکہ ایک مضبوط و خوشحال مملکت خداد پاکستان کشمیریوں کی تحریک آزادی کی کامیابی کا ضامن ہے ، مملکت خداد کشمیریوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے اور کشمیریوں کے لئے امیدوں کا محور ہے ، انہوںنے کہا کہ ہم پاکستانی عوام اور حکومت کے پانچ فروری کو کشمیر یوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنے پر مشکور ہیں،یوم یکجہتی کشمیر کو بھرپور انداز میں منانے سے کشمیریوں کے حوصلے مزیدبلند ہوئے ہیں،حریت رہنماء نے کہاکہ پاکستان میں جو بھی حکومت ہو کشمیر پر ایک مضبوط پالیسی کا تسلسل جاری رہنا چاہیے حکومتوں کے تبدیل ہونے سے کشمیر کاز متاثر نہیں ہونا چاہیے ، انہوں نے کہاکہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں اس پر موجود ہیں اور کشمیری ان قرارداوں کی رو سے کشمیر کے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت فوجی طاقت اور ظلم وبربریت سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے، اب اس نے کشمیر میں اسرائیلی طرز پر اپنی سفاکانہ پالیسی کے تحت کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین میں بے دخل کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے جس کے تحت لوگوں کی زمینوں پر قبضے کے علاوہ ان کی املاک کو بلڈوز کیا جارہا ہے
شیخ عبدالمتین نے کہاکہ ، ہماری قیادت بھارتی جیلوں میں بند ہیں، یاسین ملک، مسرت عالم بٹ،شبیر احمدشاہ اور دیگر رہنماء جھوٹے کیسوں میں پابندسلاسل ہیں ، مودی سرکار اپنی کینگرو عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف استعمال کررہی ہے یعنی بھارت کی فاشسٹ مودی سرکار نے اب کشمیرمیں عدالتی دہشت گردی بھی شروع کررکھی ہے،کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مودی سرکاری کی دہشت گردی جاری ہے ،بھارتی مظالم دیکھ کرآج قائد اعظم کا دو قومی نظریہ صحیح ثابت ہوا،حریت رہنماء نے کہا کہ بھارتی ظلم وتشدد اور قابض فوج کی ریاستی دہشت گردی کے بادجود کشمیری اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں ،شیخ عبدالمتین نے کہاکہ عالمی براداری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان ظالمانہ اقدامات کا نوٹس لیکر کشمیریوں کو اپنا حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔دیگر مقررین نے بھی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اس وقت اپنی قربانیوں سے ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں ،پوری پاکستانی عوام اس جدوجہد میں ان کی پشت پر کھڑی ہے ،عالمی برادری خاص کر اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو اپناحق دلانے کے لئے اپنی قراردادوں پر فوری عمل کرے ، اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کانہ ختم ہونے والا سلسلہ روکنے کے لئے بھارت کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں۔