ابابیلوں کا وار، حوثی فرار،امریکہ ہل گیا،ایران دہل گیا۔ پیٹرول سبسڈی اسکیم؛ وزیراعظم کا وفاقی وزیر شزا فاطمہ کیلئے تمغے کا اعلان وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان دوسرا ٹی ٹوئنٹی: ویسٹ انڈیز نے بھارت کا بھرکس نکال دیا، 250 کا ہدف بنا ڈالا طویل مدتی جنگ کیلئے اسلحے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، ایران بھارتی پیرا ملٹری فورس کے 4 اہلکار حادثاتی دھماکے میں شدید زخمی بلوچستان کے نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلیے فٹبال کپ کا شاندار انعقاد ہانگ کانگ سکسز: دفاعی چیمپئن پاکستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر سمیت دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو کپڑے، دوائیاں دیں، باہر جا کر کہا کچھ نہیں دیا، لاہور ہائیکورٹ ابابیلوں کا وار، حوثی فرار،امریکہ ہل گیا،ایران دہل گیا۔ پیٹرول سبسڈی اسکیم؛ وزیراعظم کا وفاقی وزیر شزا فاطمہ کیلئے تمغے کا اعلان وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان دوسرا ٹی ٹوئنٹی: ویسٹ انڈیز نے بھارت کا بھرکس نکال دیا، 250 کا ہدف بنا ڈالا طویل مدتی جنگ کیلئے اسلحے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، ایران بھارتی پیرا ملٹری فورس کے 4 اہلکار حادثاتی دھماکے میں شدید زخمی بلوچستان کے نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلیے فٹبال کپ کا شاندار انعقاد ہانگ کانگ سکسز: دفاعی چیمپئن پاکستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر سمیت دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو کپڑے، دوائیاں دیں، باہر جا کر کہا کچھ نہیں دیا، لاہور ہائیکورٹ
ابابیلوں کا وار، حوثی فرار،امریکہ ہل گیا،ایران دہل گیا۔ پیٹرول سبسڈی اسکیم؛ وزیراعظم کا وفاقی وزیر شزا فاطمہ کیلئے تمغے کا اعلان وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان دوسرا ٹی ٹوئنٹی: ویسٹ انڈیز نے بھارت کا بھرکس نکال دیا، 250 کا ہدف بنا ڈالا طویل مدتی جنگ کیلئے اسلحے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، ایران بھارتی پیرا ملٹری فورس کے 4 اہلکار حادثاتی دھماکے میں شدید زخمی بلوچستان کے نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلیے فٹبال کپ کا شاندار انعقاد ہانگ کانگ سکسز: دفاعی چیمپئن پاکستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر سمیت دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو کپڑے، دوائیاں دیں، باہر جا کر کہا کچھ نہیں دیا، لاہور ہائیکورٹ ابابیلوں کا وار، حوثی فرار،امریکہ ہل گیا،ایران دہل گیا۔ پیٹرول سبسڈی اسکیم؛ وزیراعظم کا وفاقی وزیر شزا فاطمہ کیلئے تمغے کا اعلان وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان دوسرا ٹی ٹوئنٹی: ویسٹ انڈیز نے بھارت کا بھرکس نکال دیا، 250 کا ہدف بنا ڈالا طویل مدتی جنگ کیلئے اسلحے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، ایران بھارتی پیرا ملٹری فورس کے 4 اہلکار حادثاتی دھماکے میں شدید زخمی بلوچستان کے نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلیے فٹبال کپ کا شاندار انعقاد ہانگ کانگ سکسز: دفاعی چیمپئن پاکستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر سمیت دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو کپڑے، دوائیاں دیں، باہر جا کر کہا کچھ نہیں دیا، لاہور ہائیکورٹ

مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

Link copied!
مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔

فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔

اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔

اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔

مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *