اسلام آباد ( رپورٹ عمر ابدالی )
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان (ISIS-K) وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا دہشت گرد خطرہ ہے اور یہ تنظیم افغانستان کو اپنی علاقائی توسیع اور نام نہاد خلافت کے قیام کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔وسطی ایشیا میں دہشت گردوں کو اسلحہ حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک اجلاس کے نام اپنے پیغام میں لاوروف نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی نوعیت بین الاقوامی ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر جنگ کے لیے غیر مشروط اتحاد اور دوہرے معیار کو ترک کرنا ضروری ہے۔ لاوروف نے مغربی ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی ریاستوں کی تباہ کن پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی انسداد دہشت گردی تعاون یرغمال بن چکا ہے۔