امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے مسلسل 12 ویں روز ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، جنگی سازوسامان اور طبی عملہ بھی روانہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر بدھ کی شام امریکی وقت کے مطابق 5 بج کر 30 منٹ پر ایرانی فوجی اہداف کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
At 5:30 p.m. ET today, U.S. forces began launching more strikes against Iranian military targets at the Commander in Chief’s direction. The mission will continue to further degrade Iran’s ability to threaten civilian mariners and commercial vessels transiting regional waters.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 22, 2026
بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان واقع شلامچہ سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک علاقے کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا نے حملے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں تاہم حملے کی نوعیت نقصان یا دیگر تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور کر رہا ہے جس کے پیش نظر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ میں موجود فضائی اڈوں پر بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت دفاعی اخراجات کے لیے ریکارڈ 1.15 ٹریلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اگرچہ ڈیموکریٹک ارکان نے اس کے بھاری اخراجات اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ پینٹاگون کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی شق پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم بل کو ریپبلکن اکثریت کی حمایت حاصل رہی۔