جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے 2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل خلیج تعاون کونسل نے اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود بھارت کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی پاکستان اور عمان کا تجارت، سرمایہ کاری و اعلیٰ سطح کے روابط مضبوط بنانے پر اتفاق بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھ گئی، حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری امریکی کانگریس نے فوج کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کا بجٹ منظور کر لیا جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے 2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل خلیج تعاون کونسل نے اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود بھارت کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی پاکستان اور عمان کا تجارت، سرمایہ کاری و اعلیٰ سطح کے روابط مضبوط بنانے پر اتفاق بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھ گئی، حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری امریکی کانگریس نے فوج کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کا بجٹ منظور کر لیا
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے 2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل خلیج تعاون کونسل نے اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود بھارت کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی پاکستان اور عمان کا تجارت، سرمایہ کاری و اعلیٰ سطح کے روابط مضبوط بنانے پر اتفاق بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھ گئی، حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری امریکی کانگریس نے فوج کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کا بجٹ منظور کر لیا جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے 2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل خلیج تعاون کونسل نے اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود بھارت کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی پاکستان اور عمان کا تجارت، سرمایہ کاری و اعلیٰ سطح کے روابط مضبوط بنانے پر اتفاق بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھ گئی، حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری امریکی کانگریس نے فوج کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کا بجٹ منظور کر لیا

2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ

Link copied!
2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ

2026 کا فیفا ورلڈ کپ ہم سے ایک ایسے شاندار اور آفاقی میلے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جہاں دنیا بھر کی اقوام کثیرالاقوامی کارپوریٹ اسپانسرز کی ٹیکس سے مبرا چھتری تلے، ایک ہری بھری گھاس پر گیند کو ٹھوکر مارنے کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ٹورنامنٹ ایک ایسا سفاکانہ اور طبقاتی جیو پولیٹیکل نظام بن چکا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اگرچہ کھیل کے میدانِ جنگ یعنی گراؤنڈ پر تمام ٹیمیں برابر ہیں، لیکن وی آئی پی لاؤنجز اور ایگزیکٹو بورڈ رومز میں کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ ’برتر‘ ہیں۔

اگر آپ کا تعلق دنیا کے کسی پسماندہ کونے سے ہے، تو امیگریشن حکام آپ کے پاسپورٹ کو یوں دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی خطرناک جراثیم زدہ دستاویز ہو، جبکہ مراعات یافتہ خطوں کے وفود اس طرح دندناتے پھرتے ہیں جیسے انہیں حقیقت سے بھی سفارتی استثنیٰ حاصل ہو۔

آپ ذرا افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں پھیلے ہوئے ویزا دفاتر کے چکر کاٹ کر اس سفاکانہ بیوروکریٹک تماشے کا خود مشاہدہ کریں۔ شائقین، صحافی، اور یہاں تک کہ ٹیموں کے معاون عملے کو بھی انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ مراکش کے قومی فٹ بال شائقین کی ایسوسی ایشن کا وہ دردناک معاملہ ہی دیکھ لیں، جس کے 42 میں سے 40 ارکان، جن کے پاس سفر کا بہترین ریکارڈ، ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ اور ٹکٹوں کے لیے لاکھوں روپے موجود تھے، کو امریکی قونصل خانوں نے من مانی بنیادوں پر ویزوں سے محروم کردیا۔

سینیگال کے کپتان کالیڈو کولیبالی کو خود یہ کہنا پڑا کہ آخر افریقی ٹیموں کو آدھے خالی اسٹیڈیمز میں کیوں کھلایا جا رہا ہے جبکہ ان کے اپنے لوگوں کو سرحدوں پر ہی روک دیا گیا ہے۔ دوسری طرف کیپ وردی کے گول کیپر جوزیمار ’وازینہ‘ ڈیاس نے انکشاف کیا کہ طویل بیوروکریٹک دیواروں اور اخراجات نے ان کی بوڑھی ماں تک کو اپنے بیٹے کو عالمی طاقتوں کے خلاف کھیلتے دیکھنے سے روک دیا۔

یہ امتیازی سلوک صرف تماشائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ میدان کے ذمے داروں کو بھی اس کا نشانہ بنایا گیا۔ صومالیہ کے ریفری عمر عبدالقادر آرطان، جنہیں افریقہ کا بہترین ریفری مانا جاتا ہے، درست ویزے کے ساتھ امریکا پہنچے تو انہیں میامی ایئرپورٹ پر گیارہ گھنٹے تک طویل تفتیش کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ’قومی سلامتی‘ کے نام پر ملک بدر کر دیا گیا۔ یہ اتنا احمقانہ ڈرامہ تھا کہ یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفرین کو خود مداخلت کرنا پڑی اور ان کا کیریئر بچانے کے لیے انہیں یوئیفا سپر کپ فائنل کی ذمے داری سونپنا پڑی۔ اور کانگو کے مشہور ’سپر فین‘ مائیکل کوکا ایمبولڈنگا کو کون بھول سکتا ہے جو انقلاب کے ہماپاتریس لومومبا کا روپ دھار کر اسٹیڈیم آتے تھے؟ انہیں امریکا میں داخلے سے بالکل روک دیا گیا اور وہ بمشکل میکسیکو میں جاکر اپنی ٹیم کا میچ دیکھ پائے۔

حتیٰ کہ ٹریننگ کی سہولیات اور انتظامات کی تقسیم بھی ایک بھیانک تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روایتی طور پر یورپی اور شمالی امریکی طاقتیں جدید ترین ٹریننگ کیمپوں، ماہر غذائیات اور ہر قسم کے پرتعیش ماحول سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، پسماندہ خطوں سے تعلق رکھنے والی نچلے درجے کی ٹیموں کو ایسے ٹریننگ گراؤنڈ دیے جاتے ہیں جو کسی کار پارکنگ یا زنگ آلود گول پوسٹ والے کھنڈر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ رسد اور سہولیات کی ایک خاموش رنگ برنگی تقسیم ہے۔ آخر وہاں کے مالیاتی وسائل ان کارپوریٹ بورڈ رومز کے منہ میں پانی جو نہیں لاتے؟ یہ پیغام کسی لاؤنڈ اسپیکر سے نہیں بلکہ ایک پرسکون اور ظالمانہ اشارے سے دیا جاتا ہے کہ اپنی اوقات پہچانو۔

اس سب میں اصل شاہکار اس ٹورنامنٹ کی وہ فکری گھٹن ہے جو نافذ کی گئی ہے۔ فیفا بڑے فخر سے یہ ڈھنڈھورا پیٹتا ہے کہ فٹ بال دنیا کو جوڑتا ہے، بشرطیکہ دنیا کبھی بھی، کسی بھی حالت میں حقیقی انسانی مصائب یا سیاسی جبر کا ذکر نہ کرے۔ اگر کوئی کھلاڑی، کوچ یا تماشائی کسی ایسی مظلوم آبادی کے ساتھ یکجہتی کا ایک لفظ بھی بول دے جسے مغربی حمایت یافتہ عسکری مشینری نے کچلا ہے۔ جیسا کہ ترکیہ اور امریکا یا جرمنی اور پیراگوئے کے میچوں کے دوران فلسطینی پرچم اٹھانے والے شائقین کے ساتھ ہوا، تو انتظامیہ کا کوڑا پوری طاقت سے برستا ہے۔ جرمانے، غیر معینہ مدت کی پابندیاں اور اخلاقی فتوے اتنی تیزی سے جاری کیے جاتے ہیں کہ جتنی دیر میں آپ ’کھیل میں سیاست مت گھسیٹیں‘ کا جملہ بھی پورا نہ کر سکیں۔

بظاہر کھیل میں سیاست نہ لانے کا نعرہ ہمیشہ سے اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے کہ صرف ’ناپسندیدہ‘ سیاست کو باہر رکھا جائے۔ جب کارپوریٹ اور سیاسی صہیونی لبیئرز اور ریاست نواز مغربی ادارے ٹورنامنٹ کی مارکیٹنگ اور نشریات میں دندناتے پھرتے ہیں، تو اسے عالمی شراکت داری اور مشترکہ اقدار کی ایک شاندار فتح قرار دیا جاتا ہے۔ آپ غیر قانونی قبضوں کی پشت پناہی کرنے والے کارپوریٹ برانڈز کے اشتہارات ڈیجیٹل بورڈز پر سجا دیں، منتظمین آنکھیں موند لیں گے۔ لیکن اگر کوئی درحقیقت انسانی حقوق کے دعوؤں کا ڈھول پیٹنے والوں کو ان کے اپنے منافقانہ چہرے کا آئینہ دکھائے، تو اسے فوراً میڈیا بلیک آؤٹ، سوشل میڈیا سنسرشپ اور پاس ورڈ منسوخی کی تاریک کھائی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

یہ منافقت اس وقت اور بھی عیاں ہو جاتی ہے جب اس ایونٹ کے مالی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے۔ اربوں روپے چند نام نہاد اداروں اور عارضی کارپوریٹ کمپنیوں کی تجوریوں میں بھر دیے جاتے ہیں، جبکہ میزبان ممالک کے مقامی باسیوں کے حصے میں مہنگائی، سیکیورٹی کے نام پر عذاب اور ماحولیاتی تباہی آتی ہے۔ عام شہریوں کو یہ جھوٹی پٹی پڑھائی جاتی ہے کہ معاشی فوائد نچلی سطح تک پہنچیں گے، جبکہ دوسری طرف عوامی سہولیات کا بجٹ کاٹ کر اسٹیڈیمز کے گرد پولیس چھاؤنیاں بنا دی جاتی ہیں۔ یہ اکیسویں صدی کی وہ چونسٹھ کلا ہے جہاں جدید ترین نگرانی کے آلات اور ڈیجیٹل ہتھکنڈوں کے ذریعے ہر آواز کو گھونٹ دیا جاتا ہے۔

آخرکار، 2026 کا یہ ورلڈ کپ من مانی ہمدردی اور دوہرے معیار کا ایک ایسا یادگار مینار بن چکا ہے جہاں اشرافیہ کا بیانیہ یہ ہے کہ کھیل صرف خالص صلاحیت کا نام ہے، جس کا سامراج، نسلی تعصب اور امتیازی سلوک سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن جب آپ سینیگال، ہیٹی اور ایران کے شائقین کے لیے ویزا قطاروں، درجے کے حساب سے بننے والے ہوٹلوں، چھینے گئے بینچوں اور پروپیگنڈا نشر کرنے والے اسٹوڈیوز کو دیکھتے ہیں، تو حقیقت سورج کی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ دنیا کے اس کھیل کو سمیٹ کر طاقتوروں کے ایوانوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ منتظمین کا واضح اور متکبرانہ پیغام یہ ہے کہ آپ صرف پروڈکٹ خریدیں، تالیاں بجائیں اور خاموش رہیں؛ لیکن اگر آپ نے یہ جرأت کی کہ اس سستے تماشے کی اصلیت بیان کریں، تو آپ کا مائیکروفون بند کردیا جائے گا۔ آخر کار، ظالموں کے آرام کی حفاظت اور عام انسانوں کی خاموشی سے بڑھ کر کھیل کی کون سی روح ہو سکتی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مقبول خبریں
Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *