مودی حکومت کیخلاف دہلی کے بعد احتجاجی مظاہرے تمام بھارتی ریاستوں تک پھیل گئے اور نوجوان تاحال سڑکوں پر موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس پر کاکروچ جنتا پارٹی کا بھارتی حکومت سے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بدترین تشدد کے باوجود نوجوانوں کا مودی، امت شاہ اور دھرمندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ویڈیوز کے مطابق نوجوان کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو،گوا، گجرات، بہار، مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں سڑکوں پر موجود ہیں۔
المی جریدہ الجزیرہ کے مطابق بھارتی نوجوانوں کی حمایت پر بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو بھی پولیس کیجانب حراست میں لیا گیا۔ اپوزیشن رہنما کی گرفتاری کیخلاف اور طلباء کے حق میں مختلف بھارتی سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور احتجاج کیا۔
اپوزیشن رہنما پریانکا گاندھی نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اپنے ہی شہریوں پر بدترین مظالم کو آشکار کرتے ہوئے کہا کہ طلباء پر بے رحمی سے حملہ کیا جا رہا ہے، ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اورآنسو گیس کے شیل داغے جا رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق نوجوانوں کے احتجاج سے سامنے آنے والی تصاویر نے ثابت کر دیا کہ بھارت میں پُرامن اختلافِ رائے کو دبایا جا رہا ہے۔